سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب لُزُومِ السُّنَّةِ باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : " قَدِمَ عَلَيْنَا الْحَسَنُ مَكَّةَ ، فَكَلَّمَنِي فُقَهَاءُ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي أَنْ يَجْلِسَ لَهُمْ يَوْمًا يَعِظُهُمْ فِيهِ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَاجْتَمَعُوا فَخَطَبَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَخْطَبَ مِنْهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَلَقَ الشَّيْطَانَ ؟ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ ! خَلَقَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ وَخَلَقَ الْخَيْرَ وَخَلَقَ الشَّرَّ ، قَالَ الرَّجُلُ : قَاتَلَهُمُ اللَّهُ كَيْفَ يَكْذِبُونَ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ " .
´حمید کہتے ہیں کہ` حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں ، اور وعظ فرمائیں ، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا ، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا ، ایک شخص نے سوال کیا : اے ابوسعید ! شیطان کو کس نے پیدا کیا ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا ، اور شر پیدا کیا ، وہ شخص بولا : اللہ انہیں غارت کرے ، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حمید کہتے ہیں کہ حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4618]
خالق صرف اللہ تعالی ہے۔
ہر چیز اس نے پیدا کی ہے۔
اندھیرا نہ ہوتو نور کی پہچان ممکن نہیں۔
شر نہ ہوتو خیر کی خوبی کیسے معلوم ہو