حدیث نمبر: 4618
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : " قَدِمَ عَلَيْنَا الْحَسَنُ مَكَّةَ ، فَكَلَّمَنِي فُقَهَاءُ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي أَنْ يَجْلِسَ لَهُمْ يَوْمًا يَعِظُهُمْ فِيهِ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَاجْتَمَعُوا فَخَطَبَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَخْطَبَ مِنْهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَلَقَ الشَّيْطَانَ ؟ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ ! خَلَقَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ وَخَلَقَ الْخَيْرَ وَخَلَقَ الشَّرَّ ، قَالَ الرَّجُلُ : قَاتَلَهُمُ اللَّهُ كَيْفَ يَكْذِبُونَ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حمید کہتے ہیں کہ` حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں ، اور وعظ فرمائیں ، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا ، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا ، ایک شخص نے سوال کیا : اے ابوسعید ! شیطان کو کس نے پیدا کیا ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا ، اور شر پیدا کیا ، وہ شخص بولا : اللہ انہیں غارت کرے ، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ہمیشہ اہل بدعت کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ موحدین اور صحیح عقیدہ والوں پر افتراءات باندھتے رہتے ہیں، کچھ لوگوں نے حسن بصری کے متعلق بھی اسی طرح کے بہتان لگائے تھے اسی کی طرف اشارہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4618
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18509) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔`
حمید کہتے ہیں کہ حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4618]
فوائد ومسائل:
خالق صرف اللہ تعالی ہے۔
ہر چیز اس نے پیدا کی ہے۔
اندھیرا نہ ہوتو نور کی پہچان ممکن نہیں۔
شر نہ ہوتو خیر کی خوبی کیسے معلوم ہو
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4618 سے ماخوذ ہے۔