حدیث نمبر: 4615
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : " وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ سورة هود آية 119 ، قَالَ : خَلَقَ هَؤُلَاءِ لِهَذِهِ وَهَؤُلَاءِ لِهَذِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

‏‏‏‏ حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے قول «ولذلك خلقهم» ” اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا “ ( سورۃ ھود : ۱۱۹ ) کے بارے میں روایت ہے ، انہوں نے کہا : انہیں پیدا کیا اس ( جنت ) کے لیے اور انہیں پیدا کیا اس ( جہنم ) کے لیے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: انہیں جنت کے لئے اور انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ: اگر اللہ نہ لکھتا تو جن کو جہنم کے لئے لکھا وہ اچھے اعمال کر کے جنت میں چلے جاتے وبالعکس، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اس نے جہنم کے لئے پیدا کیا اگر ان کی تقدیر میں کچھ نہ لکھتا تو یہ ممکن نہ تھا کہ وہ جنت میں چلے جاتے، یہ لوگ چونکہ برے اعمال ہی کرنے والے تھے جو اللہ کو معلوم تھا (کیونکہ اس کا علم ماضی مستقبل حال کے لئے یکساں ہے) اس لئے اس نے اپنے علم کی بنیاد پر لکھا ایسا نہیں کہ لکھنے سے یہ لوگ مجبور ہو گئے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4615
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18516) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔`
‏‏‏‏ حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے قول «ولذلك خلقهم» اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا (سورۃ ھود: ۱۱۹) کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: انہیں پیدا کیا اس (جنت) کے لیے اور انہیں پیدا کیا اس (جہنم) کے لیے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4615]
فوائد ومسائل:
اس کے لیے پیدا کیا کا مطلب بھی یہی ہے کہ پیدائش یا اس سے بھی پہلے اللہ کو علم ہے۔
آخرت کا معاملہ صرف اور صرف اللہ عزوجل کے علم اور تقدیر پر ہی منحصر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4615 سے ماخوذ ہے۔