سنن ابي داود
كتاب السنة— کتاب: سنتوں کا بیان
باب لُزُومِ السُّنَّةِ باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : " قُلْتُ لِلْحَسَنِ : يَا أَبَا سَعِيدٍ أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ أَلِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلْأَرْضِ ؟ قَالَ : لَا بَلْ لِلْأَرْضِ ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ لَوِ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الشَّجَرَةِ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ ، قُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ { 162 } إِلا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ { 163 } سورة الصافات آية 162-163 ، قَالَ : إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَا يَفْتِنُونَ بِضَلَالَتِهِمْ إِلَّا مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَحِيمَ " .
´خالد الحذاء کہتے ہیں کہ` میں نے حسن ( حسن بصری ) سے کہا : اے ابوسعید ! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے ، یا زمین کے لیے ؟ آپ نے کہا : نہیں ، بلکہ زمین کے لیے ، میں نے عرض کیا : آپ کا کیا خیال ہے ؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے ، انہوں نے کہا : یہ ان کے بس میں نہ تھا ، میں نے کہا : مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» ” شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو “ ( الصافات : ۱۶۳ ) کے بارے میں بتائیے ، انہوں نے کہا : ” شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے کہا: اے ابوسعید! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» ” شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو “ (الصافات: ۱۶۳) کے بارے میں بتائیے، ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4614]
1۔
انکار تقدیر کا فتنہ سب سے پہلے بصرے میں شروع ہوا تھا اور حضرت حسن بصریؒ معروف تابعی ہیں، ان کے متعلق لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید وہ بھی تقدیر کے انکاری ہیں۔
مگر ایسی کوئی بات نہ تھی۔
امام ابو داؤد نے اگلی روایات میں ان پر سے اسی تہمت کا رد کیا ہے کہ وہ تقدیر پر پوری طرح ایمان رکھتے تھے۔
2۔
جہنم میں جانا واجب اس طرح کہ اللہ کو پہلے سے علم ہے کہ جہنم میں کس کو جانا ہے۔
اس یقینی علم کو وجوب کہا گیا ہے۔