حدیث نمبر: 4608
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ عَتِيقٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” سنو ، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: «متنطعون» سے مراد ایسے اشخاص ہیں جو حد سے تجاوز کر کے اہل کلام و فلسفہ کے طریقہ پر بے کار کی بحثوں میں پڑے رہتے ہیں اور ان مسائل میں بھی جو ماوراء عقل ہیں اپنی عقلیں دوڑاتے ہیں جس کی وجہ سے سلف کے طریقہ سے دور جا پڑتے ہیں، ان کے لئے اس میں سخت وعید ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ نصوص پر حکم ان کے ظاہر کے اعتبار ہی سے لگایا جائے گا اور جب تک ظاہری معنی مراد لینا ممکن ہو اس سے عدول نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2670)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2671
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سنت کی پیروی ضروری ہے۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ” سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4608]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ” سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4608]
فوائد ومسائل:
قرآن وحدیث کے عام فہم معنی پر عمل کرنا واجب ہے۔
بال کی کھال اتارنا اور دور دراز کی کوڑیاں لانا اور لا یعنی تکلفات میں پڑنا یا دوسروں کو اس میں مبتلا کرنا دین نہیں ہے۔
قرآن وحدیث کے عام فہم معنی پر عمل کرنا واجب ہے۔
بال کی کھال اتارنا اور دور دراز کی کوڑیاں لانا اور لا یعنی تکلفات میں پڑنا یا دوسروں کو اس میں مبتلا کرنا دین نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4608 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2671 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کی علامت میں سے ہے علم اٹھالیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی،شراب پی جائے گی اور زنا عام ہو گا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6785]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: علم اٹھنے اور جہالت کے جمنے یا پھیلنے سے مراد یہ ہے کہ علم دین میں رسول ختم ہو جائے گا، آہستہ آہستہ پختہ کار اور باعمل علماء اٹھ جائیں گے اور ان کی جگہ کم علم، بدعمل افراد آ جائیں گے، جنہیں دینی مسائل کی واقفیت کم ہو گی، بدعملی زیادہ ہو گی اور انہی کو لوگوں میں عزت و شرف حاصل ہو گا اور اس کا آغاز عرصہ دراز سے شروع ہو چکا ہے، قاضی عیاض م 544ھ نے اپنے دور کے علماء کے بارے میں یہی لکھا ہے کہ ہمارے دور میں اس کا مصداق ظاہر ہو گیا ہے، کیونکہ اب لوگوں نے جہلاء کو امیر بنا لیا ہے اور وہ اللہ کے دین میں اپنی رائے سے فتویٰ دے رہے ہیں اور اپنی رائے سے حکم لگا رہے ہیں، آج کاغذی علم عام ہو گیا ہے، کتابیں دن بہ دن نئی نئی آ رہی ہیں، لیکن ان کو پڑھنے والے اور سمجھنے والے دن بہ دن کم ہو رہے ہیں، دنیوی علوم کے مقابلہ میں دینی علوم کی کوئی اہمیت نہیں رہی، سکولوں اور کالجوں میں تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور دینی طلبہ کی کمی ہو رہی ہے، شراب، زنا عام ہے اور فحاشی اور عریانی کا سیلاب آیا ہوا ہے، علانیہ فسق و فجور کا ارتکاب ہو رہا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2671 سے ماخوذ ہے۔