حدیث نمبر: 4601
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : " قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ ، فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، وَقَالَ : اذْهَبْ فَاغْسِلْ هَذَا عَنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا ، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے ، تو انہوں نے میرے ( ہاتھوں پر ) زعفران مل دیا ، صبح کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا : ” جاؤ اسے دھو ڈالو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب السنة / حدیث: 4601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديثان السابقان (225،4176), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 162
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (4176)، (تحفة الأشراف: 10372) (حسن) » (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عطاء خراسانی حافظہ کے کمزور راوی ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اہل بدعت کو سلام نہ کرنے کا بیان۔`
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے، تو انہوں نے میرے (ہاتھوں پر) زعفران مل دیا، صبح کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4601]
فوائد ومسائل:
نبی صلى الله عليه وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو اس کے عمل کے حوالے سے انہیں ناپسندیدگی کا احساس دلایا۔
اسی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مقاطعہ کے دوران میں اصلاح احوال کے لیے بات سمجھانے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4601 سے ماخوذ ہے۔