سنن ابي داود
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کا بیان
باب فِيمَنْ تَطَبَّبَ وَلاَ يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَأَعْنَتَ باب: جس نے طب جانے بغیر کسی کا علاج کیا اور اس کو نقصان پہنچا دیا تو اس کی سزا کیا ہے؟
حدیث نمبر: 4587
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنِي بَعْضُ الْوَفْد الَّذِينَ قُدِمُوا عَلَى أَبِي ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا طَبِيبٍ تَطَبَّبَ عَلَى قَوْمٍ لَا يُعْرَفُ لَهُ تَطَبُّبٌ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَعْنَتَ فَهُوَ ضَامِنٌ " ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِالنَّعْتِ ، إِنَّمَا هُوَ قَطْعُ الْعُرُوقِ وَالْبَطُّ وَالْكَيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں` میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے ، حالانکہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہو جائے تو وہ اس کا ضامن ہو گا “ ۔ عبدالعزیز کہتے ہیں : «اعنت نعت» سے نہیں ( بلکہ «عنت» سے ہے جس کے معنی ) رگ کاٹنے ، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جس نے طب جانے بغیر کسی کا علاج کیا اور اس کو نقصان پہنچا دیا تو اس کی سزا کیا ہے؟`
عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے، حالانکہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہو جائے تو وہ اس کا ضامن ہو گا۔“ عبدالعزیز کہتے ہیں: «اعنت نعت» سے نہیں (بلکہ «عنت» سے ہے جس کے معنی) رگ کاٹنے، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4587]
عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے، حالانکہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہو جائے تو وہ اس کا ضامن ہو گا۔“ عبدالعزیز کہتے ہیں: «اعنت نعت» سے نہیں (بلکہ «عنت» سے ہے جس کے معنی) رگ کاٹنے، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4587]
فوائد ومسائل:
لوگ بالعموم سنے سنائے نسخے بیا ن کرتے ہیں، اس صورت میں بتانے والے کا قصورنہیں سمجھا جاتا، بلکہ ایسی دوا استعمال کرنے والے کو خود دانا ہونا چاہیے، ہاں اگر کوئی اناڑی فصد کھولے یا داغ وغیرہ دے اور نقصان ہوجائے تو ذمہ دارہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ نوآموز ڈاکٹروں اور معالجین کے لئے پرانے ماہر طبیبوں کی زیر نگرانی طویل تربیت لازمی سمجھی جاتی ہے۔
لوگ بالعموم سنے سنائے نسخے بیا ن کرتے ہیں، اس صورت میں بتانے والے کا قصورنہیں سمجھا جاتا، بلکہ ایسی دوا استعمال کرنے والے کو خود دانا ہونا چاہیے، ہاں اگر کوئی اناڑی فصد کھولے یا داغ وغیرہ دے اور نقصان ہوجائے تو ذمہ دارہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ نوآموز ڈاکٹروں اور معالجین کے لئے پرانے ماہر طبیبوں کی زیر نگرانی طویل تربیت لازمی سمجھی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4587 سے ماخوذ ہے۔