حدیث نمبر: 4583
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دِيَةُ الْمُعَاهِدِ نِصْفُ دِيَةِ الْحُرِّ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذمی معاہد کی دیت آزاد کی دیت کی آدھی ہے ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے اسامہ بن زید لیثی اور عبدالرحمٰن بن حارث نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی کی مثل روایت کیا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی جو کافر دارالاسلام میں معاہدہ کی رو سے رہتا ہے اس کی دیت مسلمان کی دیت کی آدھی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4583
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3496), وأخرجه الترمذي (1413 وسنده حسن) والنسائي (4810، 4811 وسندھما حسن) وابن ماجه (2644 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8787)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدیات 17 (1413)، سنن النسائی/القسامة 31 (4810)، سنن ابن ماجہ/الدیات 13 (2644)، مسند احمد ( 2/183، 217، 224) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2644 | سنن نسائي: 4810 | سنن نسائي: 4811 | بلوغ المرام: 1016

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ذمی کی دیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذمی معاہد کی دیت آزاد کی دیت کی آدھی ہے ۱؎۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسامہ بن زید لیثی اور عبدالرحمٰن بن حارث نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4583]
فوائد ومسائل:
ایسا غیرمسلم جو مملکت اسلامی کی رعیت میں شامل ہو ذمی کہلاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4583 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2644 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کافر کی دیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: دونوں اہل کتاب کی دیت مسلمان کی دیت کے مقابلہ میں آدھی ہے، اور دونوں اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2644]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہودی اور عیسائی دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2644 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4810 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کافر کی دیت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کی آدھی ہے، اور ذمیوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4810]
اردو حاشہ: نصف ہے کیونکہ مسلمان اور کافر کی شان برابر نہیں ہو سکتی۔ ﴿أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ﴾ (القلم: 68: 35) البتہ ذمی کا قتل معاہدے کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا نصف دیت دینی ہوگی۔ احناف مسلم اور ذمی کی دیت برابر سمجھتے ہیں اور اس مفہوم کی ایک مرسل حدیث بیان کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ تہائی دیت کے قائل ہیں لیکن دونوں قول صحیح حدیث کے خلاف ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4810 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1016 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´اقسام دیت کا بیان`
یہ روایت بھی انہی (عمرو بن شعیب رحمہ اللہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کا نصف ہے۔ ‘‘ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد کے الفاظ اس طرح ہیں کہ ’’ ذمی کی دیت آزاد کے مقابلہ میں آدھی ہے۔ ‘‘ اور نسائی کی روایت میں ہے کہ ’’ عورت کی دیت مرد کی دیت کی مانند ہے۔ یہاں تک کہ دونوں کی دیت تہائی تک پہنچے۔ ‘‘ اسے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1016»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الديات، باب في دية الذمي، حديث:4583، والنسائي، القسامة، حديث:4809، وابن ماجه، الديات، حديث:2644، والترمذي، الديات، حديث:1413، وأحمد:2 /180، 215، وابن خزيمة.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذمی کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے۔
ذمی اس کافر کو کہتے ہیں جو کسی معاہدے کی بنا پر یا جزیہ دے کر اسلامی ریاست میں بطور رعایا سکونت پذیر ہو۔
2.عورت کی دیت زخموں میں مرد کی دیت کے برابرہے بشرطیکہ اس زخم کی دیت مرد کی پوری دیت کے ثلث (تہائی) سے اوپر نہ ہو اگر ثلث سے اوپر ہوگی تو مرد کی دیت سے نصف رہ جائے گی۔
اسے ایک مثال سے سمجھیے کہ ایک خاتون کی تین انگلیاں کٹ گئیں‘ ان کی دیت دس اونٹ فی انگلی کے حساب سے تیس اونٹ ہوگی اور یہاں تک وہ دیت میں مرد کے برابر ہوگی لیکن جب اس خاتون کی چار انگلیاں کٹ جائیں اور مرد کی بھی چار کٹ جائیں تو مرد کی دیت چالیس اونٹ ہو گی اور عورت کی دیت بیس اونٹ کیونکہ چالیس‘ سو کے ثلث (تہائی) سے اوپر ہے‘ اس لیے عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف رہ جائے گی۔
جمہور علماء کا یہی مسلک ہے مگر احناف اور شوافع قتل اور زخم ہر دو صورتوں میں عورت کی آدھی دیت ہی کے قائل ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1016 سے ماخوذ ہے۔