سنن ابي داود
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کا بیان
باب فِي دِيَةِ الْمُكَاتَبِ باب: مکاتب غلام کی دیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ وَرِثَ مِيرَاثًا يَرِثُ عَلَى قَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَإِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَعَلَهُ إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ قَوْلَ عِكْرِمَةَ .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہو گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے وہیب نے ایوب سے ، ایوب نے عکرمہ سے ، عکرمہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے ، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہو گا۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4582]
اسلام نے جس انداز سے غلاموں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے کسی اور ملت میں نہیں ہے۔
غلام اگر آدھا آزاد ہو چکا ہو غلام ہو تو آدھی دیت آزاد کی اور باقی غلام کی ادا کی جائے گی۔
اسی طرح امور باقی امور میں بھی ہے۔