حدیث نمبر: 4578
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً فَأَسْقَطَتْ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ فِي وَلَدِهَا خَمْسَ مِائَةِ شَاةٍ وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : كَذَا الْحَدِيثُ خَمْسَ مِائَةِ شَاةٍ وَالصَّوَابُ مِائَةُ شَاةٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَكَذَا قَالَ عَبَّاسٌ ، وَهُوَ وَهْمٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر مارا تو اس کا حمل گر گیا ، یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے اس بچہ کی دیت پانچ سو بکریاں مقرر فرمائی ، اور لوگوں کو پتھر مارنے سے اسی دن سے منع فرما دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : روایت اسی طرح ہے ” پانچ سو بکریوں کی “ لیکن صحیح ” سو بکریاں “ ہے ، اسی طرح عباس نے کہا ہے حالانکہ یہ وہم ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4578
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (4817 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/القسامة 33 (4817)، (تحفة الأشراف: 2006) (ضعیف) وضاحت : الحکم علی حدیث النسائی: ''صحیح الإسناد'' (4817) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4817

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4817 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے کی (دیت) پچاس بکریاں ۱؎ طے کیں اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرما دیا۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) اسے ابونعیم نے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (ان کی روایت آگے آ رہی ہے) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4817]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنین، یعنی پیٹ کے بچے کی دیت پچاس بکریاں مقرر فرمائی جبکہ دیگر صحیح احادیث میں جنین (پیٹ کے بچے) کی دیت غُرَّۃ (غلام یا لونڈی) مذکور ہے۔ دونوں روایات میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ لونڈی کی درمیانی قیمت پچاس بکریوں کے برابر ہو۔ اس طرح ان میں تضاد ختم ہو جاتا ہے۔ دوسرے بعض علماء نے کہا کہ اس روایت کا متن اصح روایت کے مخالف ہونے کی وجہ سے معلول ہے، لہٰذا اس طرح دونوں روایات کا تضاد ہی نہ رہا۔
(2) خذف سے مراد کنکریاں پھینکنا ہے۔ شغل کے طور پر چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے نشانے لگانا اگرچہ ظاہراً بے ضرر سا کام محسوس ہوتا ہے مگر اس سے کوئی آنکھ ضائع ہو سکتی ہے، دانت ٹوٹ سکتا ہے، کوئی نازک عضو متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے اس سے منع فرمایا۔ ویسے بھی یہ بے فائدہ کام ہے۔ اس عورت نے بھی تو دوسری عورت کو پتھر مارا تھا اور خیمے کی چوب، یعنی لکڑی ماری تھی جو دوسری عورت کے پیٹ وغیرہ پر لگی جس سے یہ نقصان ہوگیا۔ آپ نے اسی مناسبت سے خذف کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔
(3) امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو نعیم (فضل بن دکین) نے مذکورہ روایت مرسل بیان کی ہے۔ انھوں نے اپنی روایت میں کہا ہے: [حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ صُھَیْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُاللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ أَنَّ اِمْرَأَۃً… الخ] مطلب یہ کہ ابو نعیم نے عبداللہ کے باپ حضرت بریدہ کا ذکر چھوڑ دیا ہے۔ آئندہ آنے والی روایت ابو نعیم ہی کی ہے جو انھوں نے مرسل بیان کی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4817 سے ماخوذ ہے۔