حدیث نمبر: 4574
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيِّتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ ، فَقَالَ عَمُّهَا : إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ : إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُهُ يُطَلُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ وَكَهَانَتَهَا ! أَدِّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَانَ اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ وَالْأُخْرَى أُمَّ غُطَيْفٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حمل بن مالک کے قصے میں روایت ہے ، وہ کہتے ہیں` تو اس نے بچہ کو جسے بال اگے ہوئے تھے ساقط کر دیا ، وہ مرا ہوا تھا اور عورت بھی مر گئی ، تو آپ نے وارثوں پر دیت کا فیصلہ کیا ، اس پر اس کے چچا نے کہا : اللہ کے نبی ! اس نے تو ایک ایسا بچہ ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے ، تو قاتل عورت کے باپ نے کہا : یہ جھوٹا ہے ، اللہ کی قسم ! نہ تو وہ چیخا ، نہ پیا ، اور نہ کھایا ، اس جیسے کا خون تو معاف ( رائیگاں ) قرار دے دیا جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا جاہلیت جیسی مسجع عبارت بولتے ہو جیسے کاہن بولتے ہیں ، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی کی دینی ہو گی “ ۔ ابن عباس کہتے ہیں : ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4574
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (4832), سلسلة سماك عن عكرمة ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 4568، (تحفة الأشراف: 3444) (ضعیف) »