سنن ابي داود
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کا بیان
باب دِيَةِ الْجَنِينِ باب: جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ) کی دیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ : " أَنّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، فَقَالَ : ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ ، فَأَتَاهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، زَادَ هَارُونُ : فَشَهِدَ لَهُ يَعْنِي ضَرْبَ الرَّجُلِ بَطْنَ امْرَأَتِهِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، إِنَّمَا سُمِّيَ إِمْلَاصًا لِأَنَّ الْمَرْأَةَ تُزْلِقُهُ قَبْلَ وَقْتِ الْوِلَادَةِ ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا زَلَقَ مِنَ الْيَدِ وَغَيْرِهِ فَقَدْ مَلِصَ .
´مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے ، تو عمر نے کہا : میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے ، تو وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس آئے ۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گر جائے تو اس کی تعبیر «مَلِصَ» سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا ۔