حدیث نمبر: 4567
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَيْنِ الْقَائِمَةِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا بِثُلُثِ الدِّيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی آنکھ میں جو اپنی جگہ باقی رہے لیکن بینائی جاتی رہے ، تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4567
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن إحتمالا , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3502), أخرجه النسائي (4844 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/القسامة 36 (4844)، (تحفة الأشراف: 8770) (حسن) » (یہ سند حسن کے مرتبہ تک پہنچنے کے لائق ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4844

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4844 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´بے نور آنکھ جو اپنی جگہ پر ہو، اگر اسے کوئی پھوڑ دے تو اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آنکھ کے بارے میں جس سے نظر نہ آتا ہو اور وہ اپنی جگہ پر ہو پھر اگر کوئی اسے پھوڑ دے یا نکال دے تو صحیح سالم آنکھ کی تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا، اور شل ہاتھ جب کاٹ دیا جائے تو اس میں صحیح سالم ہاتھ کی دیت کے تہائی کا، اور کالے دانت میں جب وہ اکھاڑ دیا جائے تو صحیح سالم دانت کی تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4844]
اردو حاشہ: واللہ أعلم! شاید ایک تہائی دیت اس لیے دی جا رہی ہے کہ ان اعضا کے پھوڑنے، کاٹنے اور اکھیڑنے سے ظاہری حسن وجمال جاتا رہا ہے۔ یہ اعضاء اگرچہ اپنے اصل مقصد سے خالی ہیں لیکن اپنی جگہ قائم ہونے کی وجہ سے ظاہری زیب وزینت اور حسن وجمال کا فائدہ بہرحال دے رہے ہیں۔ دور سے دیکھنے میں تو وہ شخص بے عیب ہے، لہٰذا ایسے عضو کو ضائع کر دینے سے، شریعت میں اسی عضو کی جتنی دیت مقرر ہے اس کی ایک تہائی دیت دینا ہوگی۔ صحیح آنکھ کی دیت پچاس اونٹ، صحیح ہاتھ کی دیت پچاس اونٹ اور صحیح دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے، ان کا تہائی کسر میں آتا ہے۔ لہٰذا کسر کی جگہ قیمت لگائی جائے گی، مثلاً: آنکھ اور بے جان ہاتھ کی دیت سولہ سولہ اونٹ اور باقی دو دو اونٹوں کی کل قیمت کا ایک تہائی حصہ ہوگی۔ دو اونٹوں کی قیمت اگر تین لاکھ روپے ہو تو اس میں سے ایک لاکھ اسے دیا جائے گا۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4844 سے ماخوذ ہے۔