حدیث نمبر: 4546
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ قُتِلَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن عیینہ نے عمرو سے ، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4546
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3499), أخرجه الترمذي (1388 وسنده حسن) والنسائي (4807 وسنده حسن) وابن ماجه (2629 وسنده حسن) وأعله النسائي والصواب أنه حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدیات 2 (1388)، سنن النسائی/القسامة 29 (4807)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2629)، (تحفة الأشراف: 6165)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الدیات 11 (2408) (ضعیف) » امام ابو داود نے واضح فرما دیا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 1018

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1018 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´اقسام دیت کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) طے فرمائی۔ اسے چاروں نے روایت کیا ہے، نسائی اور ابوحاتم نے اس روایت کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1018»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الديات، باب الدية كم هي، حديث:4546، والترمذي، الديات، حديث:1388، والنسائي، القسامة، حديث:4807، وابن ماجه، الديات، حديث:2629.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر کسی کے پاس اونٹ نہ ہوں تو دیت نقدی کی صورت میں بھی دی جاسکتی ہے‘ وہ مروج سکہ خواہ دینار ہو یا درہم یا نوٹ وغیرہ۔
اور نقدی اونٹوں کی قیمت کے بقدر ہوگی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1018 سے ماخوذ ہے۔