حدیث نمبر: 454
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ مَوْضِعُ الْمَسْجِدِ حَائِطًا لِبَنِي النَّجَّارِ فِيهِ حَرْثٌ وَنَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَامِنُونِي بِهِ ، فَقَالُوا : لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا ، فَقُطِعَ النَّخْلُ وَسُوِّيَ الْحَرْثُ وَنُبِشَ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : فَاغْفِرْ مَكَانَ فَانْصُرْ ، قَالَ مُوسَى : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بِنَحْوِهِ ، وَكَانَ عَبْدُ الْوَارِثِ ، يَقُولُ : خَرِبٌ ، وَزَعَمَ عَبْدُ الْوَارِثِ أَنَّهُ أَفَادَ حَمَّادًا هَذَا الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مسجد نبوی کی جگہ پر قبیلہ بنو نجار کا ایک باغ تھا ، اس میں کچھ کھیت ، کچھ کھجور کے درخت اور مشرکوں کی قبریں تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” مجھ سے اس کی قیمت لے لو “ ، انہوں نے کہا : ہم اس کی قیمت نہیں چاہتے ، تو کھجور کے درخت کاٹے گئے ، کھیت برابر کئے گئے اور مشرکین کی قبریں کھدوائی گئیں ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، مگر اس حدیث میں لفظ «فانصر» کی جگہ لفظ «فاغفر» ہے ( یعنی اے اللہ ! تو انصار و مہاجرین کو بخش دے ) ۔ موسیٰ نے کہا : ہم سے عبدالوارث نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور عبدالوارث «خرث» کے بجائے «خرب» ( ویرانے ) کی روایت کرتے ہیں ، عبدالوارث کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہی حماد سے یہ حدیث بیان کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 454
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1691) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مساجد کی تعمیر کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی جگہ پر قبیلہ بنو نجار کا ایک باغ تھا، اس میں کچھ کھیت، کچھ کھجور کے درخت اور مشرکوں کی قبریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "مجھ سے اس کی قیمت لے لو"، انہوں نے کہا: ہم اس کی قیمت نہیں چاہتے، تو کھجور کے درخت کاٹے گئے، کھیت برابر کئے گئے اور مشرکین کی قبریں کھدوائی گئیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، مگر اس حدیث میں لفظ «فانصر» کی جگہ لفظ «فاغفر» ہے (یعنی اے اللہ! تو انصار و مہاجرین کو بخش دے)۔ موسیٰ نے کہا: ہم سے عبدالوارث نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور عبدالوارث «خرث» کے بجائے «خرب» (ویرانے) کی روایت کرتے ہیں، عبدالوارث کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہی حماد سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 454]
454۔ اردو حاشیہ:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود انصار کے محبوب ہونے کے، ان کے قطعہ زمین پر جبراً یا بغیر اجازت کوئی تصرف نہیں فرمایا۔ اسی لیے معروف مسئلہ ہے کہ "غصب کروہ زمیں میں نماز جائز نہیں۔"
➋ قبر پر یا قبرستان میں نماز جائز نہیں، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبریں کھدوا ڈالیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 454 سے ماخوذ ہے۔