سنن ابي داود
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کا بیان
باب الْقَوَدِ مِنَ الضَّرْبَةِ وَقَصِّ الأَمِيرِ مِنْ نَفْسِهِ باب: مار پیٹ کا قصاص اور امیر کو اپنے سے قصاص دلوانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ أُقِصُّهُ مِنْهُ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَتُقِصُّهُ مِنْهُ ؟ قَالَ : إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أُقِصُّهُ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ " .
´ابوفراس کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا : ” میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں ، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں ، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے ، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا “ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے ، وہ بولے : ” ہاں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے قصاص لوں گا “ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا ۔