سنن ابي داود
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کا بیان
باب أَيُقَادُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ باب: کیا کافر کے بدلے مسلمان سے قصاص لیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 4531
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَلِيٍّ ، زَادَ فِيهِ : وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَيَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّيهِمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : … پھر راوی نے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں ، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کیا کافر کے بدلے مسلمان سے قصاص لیا جائے گا؟`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: … پھر راوی نے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4531]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: … پھر راوی نے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4531]
فوائد ومسائل:
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جہاد میں شریک ہونے والے تمام مجاہد مال غنیمت میں حصے دار ہوں گے، حتی کہ اگر ایک چھوٹا دستہ، بڑے لشکر سے الگ ہو کر کوئی جہاد معرکہ سر کرے اور وہاں سے مال غنیمت حاصل کرے تو اس میں بڑے لشکر والے بھی جو اپنے امیر کے ساتھ بیٹھے رہے، شریک ہوں گے۔
آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جہاد میں شریک ہونے والے تمام مجاہد مال غنیمت میں حصے دار ہوں گے، حتی کہ اگر ایک چھوٹا دستہ، بڑے لشکر سے الگ ہو کر کوئی جہاد معرکہ سر کرے اور وہاں سے مال غنیمت حاصل کرے تو اس میں بڑے لشکر والے بھی جو اپنے امیر کے ساتھ بیٹھے رہے، شریک ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4531 سے ماخوذ ہے۔