سنن ابي داود
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کا بیان
باب فِي تَرْكِ الْقَوَدِ بِالْقَسَامَةِ باب: قسامہ میں قصاص نہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4526
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْيَهُودِ وَبَدَأَ بِهِمْ : يَحْلِفُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ رَجُلًا ، فَأَبَوْا ، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ : اسْتَحِقُّوا ، قَالُوا : نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةً عَلَى يَهُودَ لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا : ” تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں “ تو انہوں نے انکار کیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا : ” تم اپنا حق ثابت کرو “ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے ؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قسامہ میں قصاص نہ لینے کا بیان۔`
انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا: " تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں " تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: " تم اپنا حق ثابت کرو " انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4526]
انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا: " تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں " تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: " تم اپنا حق ثابت کرو " انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4526]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، اس مقتول کی دیت رسول ؐنے بیت المال سے ادا فرمائی تھی۔
جیسےکہ گزشتہ احادیث میں بیان ہوا ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے، اس مقتول کی دیت رسول ؐنے بیت المال سے ادا فرمائی تھی۔
جیسےکہ گزشتہ احادیث میں بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4526 سے ماخوذ ہے۔