حدیث نمبر: 4522
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ قَتَلَ بِالْقَسَامَةِ رَجُلًا مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مَالِكٍ بِبَحْرَةِ الرُّغَاءِ عَلَى شَطِّ لِيَّةِ الْبَحْرَةِ ، قَالَ : الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ مِنْهُمْ " ، وَهَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ بِبَحْرَةٍ ، أَقَامَهُ مَحْمُودٌ وَحْدَهُ عَلَى شَطِّ لِيَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن شعیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ نے قسامہ سے بنی نصر بن مالک کے ایک آدمی کو بحرۃالرغاء ۱؎ میں لیۃالبحرہ ۲؎ کے کنارے پر قتل کیا ، راوی کہتے ہیں : قاتل اور مقتول دونوں بنی نصر کے تھے ، «ببحرة الرغاء على شطر لية البحر» کے یہ الفاظ محمود کے ہیں اور محمود اس حدیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ درست آدمی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: ایک جگہ کا نام ہے۔
۲؎: ایک وادی کا نام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4522
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف معضل , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل, والوليد مدلس و عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19173) (ضعیف) » (اس سند میں عمرو بن شعیب نے رسول اللہ صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے روایت کی ہے، عموماً وہ اپنے والد اور ان کے والد عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کرتے ہیں، اس لئے سند میں اعضال ہیں یعنی مسلسل دو راوی ایک جگہ سے ساقط ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1670 | سنن ابي داود: 4525 | سنن نسائي: 4711 | سنن نسائي: 4712 | سنن نسائي: 4713 | سنن نسائي: 4722

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4711 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قسامہ کا بیان۔`
ایک انصاری صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کو اسی حالت پر باقی رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4711]
اردو حاشہ: اسلام نے جاہلیت کی صرف بری رسموں کو ختم کیا ہے، ہر رسم کو نہیں۔ آپ ﷺ کے برقرار رکھنے سے اب یہ رسم کے طور پر قابل عمل نہیں بلکہ اسے شرعی حکم کا درجہ حاصل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4711 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4712 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قسامہ کا بیان۔`
کچھ صحابہ سے روایت ہے کہ قسامہ جاہلیت میں جاری تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی حالت پر باقی رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھا، اور انصار کے کچھ لوگوں کے درمیان ایک مقتول کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ کیا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اس کا خون خیبر کے یہودیوں پر ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) معمر نے ان دونوں (یونس اور اوزاعی) کے برخلاف یہ حدیث (مرسلاً) روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4712]
اردو حاشہ: قسامت والی اس روایت کو امام زہری سے بیان کرنے والے تین راوی، یونس، اوزاعی اور معمر ہیں۔ مخالفت یہ ہے کہ یونس بن یزید اور امام اوزاعی نے جب یہ روایت امام زہری سے بیان کی تو انھوں نے اسے موصول بیان کیا ہے، یعنی ان کی سند میں صحابی رسول ہی رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں جبکہ امام معمر بن راشد نے اپنی سند میں سعید بن مسیب تابعی کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ کی بابت روایت ذکر کی ہے۔ اس طرح یہ حدیث مرسل بنتی ہے، یعنی ایک تابعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کیا تھا۔ اس مخالفت کے باوجود حدیث مذکور کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ وہ دونوں ثقہ اور حافظ ہیں، لہٰذا وہ مقدم ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4712 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4722 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔`
بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف نکلے، پھر وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہو گئے اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا قتل ہو گیا، محیصہ رضی اللہ عنہ آئے تو وہ اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ مقتول کے بھائی ہونے کی وجہ سے بات کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4722]
اردو حاشہ:  اس کی وضاحت یہ ہے کہ بشیر بن یسار سے بیان کرنے والے دیگر روائِ حدیث نے صرف قسمیں لینے کا ذکر کیا ہے گواہوں کا نہیں جبکہ سعید بن عبید طائی نے (حدیث: 4723 میں) جب بشیر بن یسار سے بیان کیا تو دیگر راویوں کے برعکس یہ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدعیوں، یعنی حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمن کے دعویٰ کرنے پر ان سے فرمایا تھا: تم اپنے اس دعویٰ پر کہ ہمارے آدمی کو یہودیوں نے قتل کیا ہے، گواہ پیش کرو۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس گواہ نہیں ہیں۔ بعد ازاں آپ نے ان سے قسموں کی بات کی۔ اس کی تفصیل آئندہ روایت میں ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4722 سے ماخوذ ہے۔