حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوَارِيهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جُذُوعِ النَّخْلِ ، أَعْلَاهُ مُظَلَّلٌ بِجَرِيدِ النَّخْلِ ، ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ فَبَنَاهَا بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَبِجَرِيدِ النَّخْلِ ، ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ فَبَنَاهَا بِالْآجُرِّ ، فَلَمْ تَزَلْ ثَابِتَةً حَتَّى الْآنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے ، اس کے اوپر کھجور کی شاخوں سے سایہ کر دیا گیا تھا ، پھر وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اس کو کھجور کے تنوں اور اس کی ٹہنیوں سے بنوایا ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وہ بھی بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اسے پکی اینٹوں سے بنوا دیا ، جو اب تک باقی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 452
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عطية العوفي: ضعيف مدلس: انظر طبقات المدلسين (122/ 4), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7335) (ضعیف) » (اس کے ایک راوی ” عطیہ عوفی “ ضعیف ہیں)