حدیث نمبر: 4519
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ مُسْتَصْرِخٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : جَارِيَةٌ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ مَا لَكَ ؟ قَالَ : شَرًّا أَبْصَرَ لِسَيِّدِهِ جَارِيَةً لَهُ فَغَارَ فَجَبَّ مَذَاكِيرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيَّ بِالرَّجُلِ ، فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مَنْ نُصْرَتِي ؟ قَالَ : عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ ، أَوْ قَالَ : كُلِّ مُسْلِمٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الَّذِي عُتَقَ كَانَ اسْمُهُ رَوْحُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الَّذِي جَبَّهُ زِنْبَاعٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا زِنْبَاعٌ أَبُو رَوْحٍ كَانَ مَوْلَى الْعَبْدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اس کی ایک لونڈی تھی ، آپ نے فرمایا : ” ستیاناس ہو تمہارا ، بتاؤ کیا ہوا ؟ “ اس نے کہا : برا ہوا ، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا ، تو اسے غیرت آئی ، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کو میرے پاس لاؤ “ تو اسے بلایا گیا ، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے ( اس غلام سے ) فرمایا : ” جاؤ تم آزاد ہو “ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میری مدد کون کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہر مومن پر “ یا کہا : ” ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا ، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا ، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4519
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (2680 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الدیات 29 (2680)، (تحفة الأشراف: 8716، 4586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/182، 225) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2680

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا: ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا؟ اس نے کہا: برا ہوا، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا، تو اسے غیرت آئی، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے (اس غلام سے) فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو اس نے کہا: اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4519]
فوائد ومسائل:
اگر کوئی مالک اپنے غلام پر ظلم کرے اور اس اعضاء کاٹ ڈالے تو غلام آزاد کردیا جائے گا۔
اور مالک سے قصاص لینے میں فقہاء کا اختلاف ہے، جیسا کہ اس کی مختصر تفصیل گزری۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4519 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2680 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹ دیا) تو وہ آزاد ہو جائے گا۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے ؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2680]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی شخص اپنے غلام کے اعضاء کاٹ دے تو آقا سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔

(2)
غلام سے اگر ایسی زیادتی کی جائےجس کی سزا قصاص ہے تو غلام کو آزاد کردیا جائے گا۔

(3)
اعضاء سے مراد ناک، کان یا ہاتھ پاؤں وغیرہ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2680 سے ماخوذ ہے۔