حدیث نمبر: 4516
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَصَى عَبْدَهُ خَصَيْنَاهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ شُعْبَةَ ، وَحَمَّادٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ ، مِثْلَ حَدِيثِ مُعَاذٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی قتادہ سے بھی اسی کے مثل حدیث مروی ہے` اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے “ اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4516
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (4515),
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4586) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟`
اس سند سے بھی قتادہ سے بھی اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4516]
فوائد ومسائل:
بعض ائمہ کے نزدیک مذکورہ دونوں روایات ضعیف ہیں، اس لئے بعد کی روایات صحیح ہیں اور مسئلہ وہی ہے جوان سے ثابت ہو رہا ہے کہ غلام کے بدلے میں مالک کو قصاصا قتل نہیں کیا جائے گا۔
لیکن جن کے نزدیک مذکورہ روایات صحیح یا حسن ہیں، ان کے نزدیک اس کا مطلب صرف زجروتوبیح اور تنبیہ ہے نہ کہ قصاص لیا جانا یا پھر یہ روایات منسوخ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4516 سے ماخوذ ہے۔