سنن ابي داود
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کا بیان
باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ باب: آدمی نے کسی کو زہر پلایا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : كَانَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ : " أَنَّ يَهُودِيَّةً مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعَ فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ ، وَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا ، فَقَالَ لَهَا : أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ ، قَالَتِ الْيَهُودِيَّةُ : مَنْ أَخْبَرَكَ ؟ قَالَ : أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي لِلذِّرَاعِ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا أَرَدْتِ إِلَى ذَلِكَ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ يَضُرَّهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ ، فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعَاقِبْهَا ، وَتُوُفِّيَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ ، وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ ، حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنْ الْأَنْصَارِ " .
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ` خیبر کی ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا ، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں بھیجا ، آپ نے دست کا گوشت لے کر اس میں سے کچھ کھایا ، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت نے بھی کھایا ، پھر ان سے آپ نے فرمایا : ” اپنے ہاتھ روک لو “ اور آپ نے اس یہودیہ کو بلا بھیجا ، اور اس سے سوال کیا : ” کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا ؟ “ یہودیہ بولی : آپ کو کس نے بتایا ؟ آپ نے فرمایا : ” دست کے اسی گوشت نے مجھے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے “ وہ بولی : ہاں ( میں نے ملایا تھا ) ، آپ نے پوچھا : ” اس سے تیرا کیا ارادہ تھا ؟ “ وہ بولی : میں نے سوچا : اگر نبی ہوں گے تو زہر نقصان نہیں پہنچائے گا ، اور اگر نہیں ہوں گے تو ہم کو ان سے نجات مل جائے گی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا ، کوئی سزا نہیں دی ، اور آپ کے بعض صحابہ جنہوں نے بکری کا گوشت کھایا تھا انتقال کر گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے شانوں کے درمیان پچھنے لگوائے ، جسے ابوہند نے آپ کو سینگ اور چھری سے لگایا ، ابوہند انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کے غلام تھے ۔