مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 4508
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ ، فَقَالَ : مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ ، أَوْ قَالَ : عَلَيَّ ، فَقَالُوا أَلَا نَقْتُلُهَا ؟ قَالَ : لَا ، فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی ، آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا ، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا ، تو اس نے کہا : میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا ، آپ نے فرمایا : ” اللہ تجھے کبھی مجھ پر مسلط نہیں کرے گا “ صحابہ نے عرض کیا : کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں ، آپ نے فرمایا : ” نہیں “ چنانچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھوں میں دیکھا کرتا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4508
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2617) صحيح مسلم (2190)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2617 | صحيح مسلم: 2190

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2617 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2617. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم ﷺ کے پاس بکری کا گوشت لائی جو زہر آلود تھا۔ آپ نے اس گوشت سے کچھ کھایا، پھر اس یہودیہ کو پکڑ کرلایا گیا تو لوگوں نے کہا: کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟آپ نے فرمایا: ’’نہیں، قتل نہ کرو۔‘‘ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں زہر کا اثر رسول اللہ ﷺ کے تالو میں دیکھتا رہاہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2617]
حدیث حاشیہ: اثر سے مراد اس زہر کا رنگ ہے یا اور کوئی تغیر جو آپ ﷺ کے تالوئے مبارک میں ہوا ہوگا۔
کہتے ہیں بشر بن براء ایک صحابی نے بھی ذرا سا گوشت اس میں سے کھالیا تھا وہ مرگئے۔
جب تک وہ مرے نہ تھے آپ نے صحابہ کو اس عورت کے قتل سے منع فرمایا۔
چونکہ آپ اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ لینا نہیں چاہتے تھے۔
یہ بھی آپ کی نبوت کی ایک بڑی دلیل ہے۔
جب بشر ؓ مر گئے تو ان کے قصاص میں وہ عورت بھی ماری گئی۔
معلوم ہوا زہر خورانی سے اگر کوئی ہلاک ہوجائے تو زہر کھلانے والے کو قصاصاً قتل کرسکتے ہیں اورحنفیہ نے اس میں خلاف کیا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺنے وفات کے قریب ارشاد فرمایا اے عائشہ! جو کھانا میں نے خیبر میں کھالیا تھا، یعنی یہی زہرآلود گوشت، اس نے اب اثر کیا اور میری شہ رگ کاٹ دی۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہادت بھی عطا فرمائی (وحیدی)
اس واقعہ سے ان غالی مبتد عین کی بھی تردید ہوتی ہے جو آنحضرت ﷺ کو مطلقاً عالم الغیب کہتے ہیں۔
حالانکہ قرآن مجید میں صاف اللہ نے آپ سے اعلان کرایاہے ﴿وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ﴾ (الأعراف: 188)
یعنی میں غیب جاننے والا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا اور کبھی کوئی تکلیف مجھ کو نہ پہنچ سکتی۔
پس جو لوگ عقیدہ بالا رکھتے ہیں وہ سراسر گمراہی میں گرفتار ہیں۔
اللہ ان کو نیک سمجھ عطا فرمائے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2617 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2617 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2617. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم ﷺ کے پاس بکری کا گوشت لائی جو زہر آلود تھا۔ آپ نے اس گوشت سے کچھ کھایا، پھر اس یہودیہ کو پکڑ کرلایا گیا تو لوگوں نے کہا: کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟آپ نے فرمایا: ’’نہیں، قتل نہ کرو۔‘‘ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں زہر کا اثر رسول اللہ ﷺ کے تالو میں دیکھتا رہاہوں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2617]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس یہودی عورت کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں تو آپ پر زہر اثر نہیں کر سکتا اور اگر آپ سچے نبی نہیں ہیں تو آپ اس زہر سے ہلاک ہو جائیں گے۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ کفار و مشرکین کے تحائف قبول کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ اس میں کوئی نقصان نہ ہو اور نہ مفاد پرستی ہی کو اس میں دخل ہو۔
(3)
واضح رہے کہ زہریلا گوشت کھانے سے آپ کے حلق میں نمایاں اثر ہوا جو منہ کھولتے ہی نظر آ جاتا تھا جیسا کہ حضرت انس ؓ نے بیان کیا ہے۔
(4)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ آپ وہ ہدیہ پہلے ہی رد کر دیتے۔
یاد رہے کہ اس زہر کی وجہ سے آپ کے ایک صحابی بشر بن براء انصاری ؓ شہید ہو گئے تھے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2617 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2190 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلودہ بکری لائی تو آپﷺ نے اس میں سے کھا لیا تو اس عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا اور آپ نے اس سے اس کا سبب پوچھا؟ اس نے کہا، میں آپ کو قتل کرنا چاہتی تھی، آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ایسے نہیں ہے کہ تجھے اس کی قدرت دیتا یا مجھ پر قدرت دیتا۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا، کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپﷺ نے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5705]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہودی سردار سلام بن مشکم کی بیوی اور مرحب پہلوان کی بہن زینب بنت حارث نے قومی غیرت کی بنا پر آپ کو زہر آلود بکری پیش کی اور اس کے بازو میں جس کو آپ پسند فرماتے تھے، خوب زہر ڈالا، تاکہ آپ کو ختم کر سکے، لیکن اللہ کی مشیت اور اجازت کے بغیر کوئی چیز اثر نہیں کرتی، اس لیے اس کا مقصد پورا نہ ہو سکا اور آپ نے اس واقعہ کے بعد تین سال زندہ رہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے چونکہ آپ کو شہادت کے ثواب سے نوازنا تھا، اس لیے آخر دنوں اس کا اثر نمایاں ہوا اور آپ وفات پا گئے، آپ نے جب بازو کا گوشت کھانا شروع کیا تو اس کو چبا نہ سکے اور آپ نے اس کو پھینک دیا اور ہڈی نے بتا دیا کہ مجھ میں زہر ڈالا گیا ہے، آپ نے دوسرے ساتھیوں کو کھانے سے روک دیا، لیکن حضرت بشر بن براء بن معرور ایک لقمہ نگل گئے اور فوت ہو گئے، آپﷺ نے اپنے طور پر اس عورت کو چھوڑ دیا اور زہر کا اثر نکالنے کے لیے کندھوں کے درمیان سینگی لگوائی، لیکن بعد میں جب حضرت بشر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو بعض ضعیف روایات کے مطابق اسے قصاص کے طور پر قتل کر دیا گیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2190 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔