سنن ابي داود
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کا بیان
باب فِيمَنْ سَقَى رَجُلاً سَمًّا أَوْ أَطْعَمَهُ فَمَاتَ أَيُقَادُ مِنْهُ باب: آدمی نے کسی کو زہر پلایا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ ، فَقَالَ : مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَلِكَ ، أَوْ قَالَ : عَلَيَّ ، فَقَالُوا أَلَا نَقْتُلُهَا ؟ قَالَ : لَا ، فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی ، آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا ، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا ، تو اس نے کہا : میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا ، آپ نے فرمایا : ” اللہ تجھے کبھی مجھ پر مسلط نہیں کرے گا “ صحابہ نے عرض کیا : کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں ، آپ نے فرمایا : ” نہیں “ چنانچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھوں میں دیکھا کرتا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کہتے ہیں بشر بن براء ایک صحابی نے بھی ذرا سا گوشت اس میں سے کھالیا تھا وہ مرگئے۔
جب تک وہ مرے نہ تھے آپ نے صحابہ کو اس عورت کے قتل سے منع فرمایا۔
چونکہ آپ اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ لینا نہیں چاہتے تھے۔
یہ بھی آپ کی نبوت کی ایک بڑی دلیل ہے۔
جب بشر ؓ مر گئے تو ان کے قصاص میں وہ عورت بھی ماری گئی۔
معلوم ہوا زہر خورانی سے اگر کوئی ہلاک ہوجائے تو زہر کھلانے والے کو قصاصاً قتل کرسکتے ہیں اورحنفیہ نے اس میں خلاف کیا ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺنے وفات کے قریب ارشاد فرمایا اے عائشہ! جو کھانا میں نے خیبر میں کھالیا تھا، یعنی یہی زہرآلود گوشت، اس نے اب اثر کیا اور میری شہ رگ کاٹ دی۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہادت بھی عطا فرمائی (وحیدی)
اس واقعہ سے ان غالی مبتد عین کی بھی تردید ہوتی ہے جو آنحضرت ﷺ کو مطلقاً عالم الغیب کہتے ہیں۔
حالانکہ قرآن مجید میں صاف اللہ نے آپ سے اعلان کرایاہے ﴿وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ﴾ (الأعراف: 188)
یعنی میں غیب جاننے والا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا اور کبھی کوئی تکلیف مجھ کو نہ پہنچ سکتی۔
پس جو لوگ عقیدہ بالا رکھتے ہیں وہ سراسر گمراہی میں گرفتار ہیں۔
اللہ ان کو نیک سمجھ عطا فرمائے۔
آمین۔
(1)
اس یہودی عورت کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں تو آپ پر زہر اثر نہیں کر سکتا اور اگر آپ سچے نبی نہیں ہیں تو آپ اس زہر سے ہلاک ہو جائیں گے۔
(2)
اس سے معلوم ہوا کہ کفار و مشرکین کے تحائف قبول کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ اس میں کوئی نقصان نہ ہو اور نہ مفاد پرستی ہی کو اس میں دخل ہو۔
(3)
واضح رہے کہ زہریلا گوشت کھانے سے آپ کے حلق میں نمایاں اثر ہوا جو منہ کھولتے ہی نظر آ جاتا تھا جیسا کہ حضرت انس ؓ نے بیان کیا ہے۔
(4)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ آپ وہ ہدیہ پہلے ہی رد کر دیتے۔
یاد رہے کہ اس زہر کی وجہ سے آپ کے ایک صحابی بشر بن براء انصاری ؓ شہید ہو گئے تھے۔