حدیث نمبر: 4507
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، وَأَحْسَبُهُ عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أُعْفِيَ مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اسے ہرگز نہیں معاف کروں گا ۱؎ جو دیت لینے کے بعد بھی ( قاتل کو ) قتل کر دے “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس سے قصاص لے کر رہوں گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4507
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شك الراوي في السند فالسند معلل, والحسن عن جابر كتاب كما في المراسيل لابن أبي حاتم (ص37) والرواية عن كتاب صحيحة ما لم يثبت الجرح فيه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2221)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 3/363) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو شخص قاتل سے دیت لے کر پھر اس کو قتل کر دے اس کے حکم کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں اسے ہرگز نہیں معاف کروں گا ۱؎ جو دیت لینے کے بعد بھی (قاتل کو) قتل کر دے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4507]
فوائد ومسائل:
 یہ بات واضح ہے کہ یہ بہت بڑا جرم ہے کہ وارث پہلےدیت قبول کرلے، پھر موقع پا کر قاتل کو یا کسی دوسرے کو قتل کر ڈالے اور ابو داود طیالسی کی روایت مذکورہ بالا شاہد اور موید ہے کہ ایسے مجرم سے قصاص لیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4507 سے ماخوذ ہے۔