حدیث نمبر: 450
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَسْجِدَ الطَّائِفِ حَيْثُ كَانَ طَوَاغِيتُهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طائف کی مسجد ایسی جگہ بنانے کا حکم دیا ، جہاں طائف والوں کے بت تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 450
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (743), محمد بن عبداﷲ بن عياض: مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان وقال الذھبي: لا يعرف (ميزان الإعتدال 3/ 602 ت 7767), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 3 (743)، (تحفة الأشراف: 9769) (ضعیف) » (اس کے راوی ابن عیاض لین الحدیث ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 743

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مساجد کی تعمیر کا بیان۔`
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طائف کی مسجد ایسی جگہ بنانے کا حکم دیا، جہاں طائف والوں کے بت تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 450]
450۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے، لیکن اس میں بیان کردہ بات دوسرے دلائل کی رُو سے صحیح ہے۔ طائف کی یہ مسجد بھی وہیں تعمیر ہوئی تھی جہاں لات بت کا بت خانہ اور آستانہ تھا۔ اس بت خانہ کی جگہ کا بایاں منارہ پڑتا تھا۔ معلوم ہوا کہ حکومت اسلامیہ میں کفار کے معاہد کو مساجد میں تبدیل کرنا جائز ہے، بالخصوص اس صورت میں جب کہ کسی ملک کو فتح کیا جائے۔ اور تاریخی طور پر ثابت ہے کہ عالمگیر بادشاہ نے بھی ہندوستان میں کفار کے معاہد پر مساجد تعمیر کرائیں۔ [عون المعبود]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 450 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 743 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟`
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 743]
اردو حاشہ:
یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے لیکن اس میں بیان کردہ بات دوسرے دلائل کی رو سے صحیح ہے۔
طائف کی یہ مسجد بھی وہیں تعمیر ہوئی تھی جہاں لات کا بت خانہ اور آستانہ تھا۔
معلوم ہوا کہ حکومت اسلامیہ میں کفار کے معاہد کو مساجد میں تبدیل کرنا جائز ہے بالخصوص اس صورت میں جبکہ کسی ملک کو فتح کیا جائے۔
نیز تاریخی طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ عالمگیر بادشاہ نے بھی ہندوستان میں کفار کے معاہد پر مساجد تعمیر کروائیں دیکھیے: عون المعبود۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 743 سے ماخوذ ہے۔