حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَهَذَا لَفْظُهُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْمُخَرَّمِيَّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْخَلَاءَ ، أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ أَوْ رَكْوَةٍ ، فَاسْتَنْجَى " ، قَالَ أَبُو دَاوُد فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ آخَرَ ، فَتَوَضَّأَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ أَتَمُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو میں پیالے یا چھاگل میں پانی لے کر آپ کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاکی حاصل کرتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وکیع کی روایت میں ہے : ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے ، پھر میں پانی کا دوسرا برتن آپ کے پاس لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے وضو کرتے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسود بن عامر کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 45
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (360), شريك القاضي صرح بالسماع عند إبن حبان (الموارد: 138)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطہارة 29 (358)، 61 (473)، (تحفة الأشراف: 14886)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة (15/703)، مسند احمد (2/311، 454) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 50

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´استنجاء کے بعد ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر دھونا`
«. . . ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ . . .»
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ زمین پر رگڑتے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 45]
فوائد و مسائل:
کچی جگہوں پر استنجا کرنے کے بعد ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر مزید صاف کر لینا مستحب ہے تاکہ بو کا شائبہ بھی نہ رہے اور جہاں مٹی میسر نہ ہو وہاں صابن اس کا قائم مقام ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 45 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 50 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، جب آپ نے (اس سے پہلے) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 50]
50۔ اردو حاشیہ: ➊ پانی کے ساتھ دھونے سے بسا اوقات ہاتھ سے بدبو نہیں جاتی۔ مٹی پر ملنے سے بدبو ختم ہو جاتی ہے اور اگر کوئی چکنائی والی نجاست ہو تو چکنائی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ آج کل صابن وغیرہ ملنے سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے، مٹی ضروری نہیں کیونکہ مقصد تو پاکیزگی اور صفائی ہے۔
➋ شرم گاہ اور ہاتھ کا درجہ ایک نہیں، لہٰذا ہاتھ کی خصوصی صفائی ضروری ہے کیونکہ ہاتھ کھانے، پینے، قرأت قرآن اور اور اد و وظائف میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 50 سے ماخوذ ہے۔