سنن ابي داود
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کا بیان
باب الإِمَامِ يَأْمُرُ بِالْعَفْوِ فِي الدَّمِ باب: امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ، حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جِيءَ بِرَجُلٍ قَاتِلٍ فِي عُنُقِهِ النِّسْعَةُ ، قَالَ : فَدَعَا وَلِيَّ الْمَقْتُولِ ، فَقَالَ : أَتَعْفُو ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَقْتُلُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ بِهِ ، فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : أَتَعْفُو ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَقْتُلُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ بِهِ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ ، قَالَ : أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِهِ ، قَالَ : فَعَفَا عَنْهُ ، قَالَ : فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ النِّسْعَةَ " .
´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا ، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا ، اور اس سے پوچھا : ” کیا تم معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو کیا دیت لو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو کیا تم قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا لے جاؤ اسے “ چنانچہ جب وہ ( اسے لے کر ) چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” کیا تم اسے معاف کرو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم دیت لو گے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم قتل کرو گے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لے جاؤ “ چوتھی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! اگر تم اسے معاف کر دو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا “ یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا ۔ وائل کہتے ہیں : میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا، اور اس سے پوچھا: ” کیا تم معاف کرو گے؟ “ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو کیا دیت لو گے؟ “ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو کیا تم قتل کرو گے؟ “ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اچھا لے جاؤ اسے “ چنانچہ جب وہ (اسے لے کر) چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ” کیا تم اسے معاف کرو گے؟ “ اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4499]
1: اگر مجرم کے بھاگ جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو باندھنا جائز ہے۔
2: مقتول کے ولی کو تین باتوں میں سے صرف ایک اختیار ہے کہ معاف کردے یا دیت قبول کرلے قصاص لے۔
3: حاکم اور قاضی کو جائز ہے کہ معاف کرنھ کی ترغیب دے۔
4: اگر قاتل قصاص میں قتل کیا جائے تو امید ہے کہ یہ اس کے لئے کفارہ بن جائے گا، بصورت دیگر اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
(1)
نسعة: چمڑے کا تسمہ۔
(2)
نَختَبِط: ہم کیکر کے پتے جھاڑ رہے تھے۔
(3)
قرن: سر کا کنارہ یا سر کی چوٹی۔
(4)
بَاءَبِاِثمِه: اس کا گناہ اٹھایا یا اس کا گناہ لے کر لوٹا۔
فوائد ومسائل: إن قتله فهو مثله: یعنی اگر مقتول کے وارث نے قاتل کو کر دیا تو اس نے اس سے اپنا حق وصول کر لیا، اس نے اس پر کوئی برتری اور عفو کر کے فضل و احسان کا درجہ نہ پایا، اگر معاف کر دے گا تو دنیا میں قابل تعریف اور آخرت میں اجر جزیل کا حقدار ہو گا، لیکن آپﷺ نے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں، جن کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے، دونوں برابر ہیں، دونوں نے غلط کام کیا ہے، کیونکہ آپ کا اصل مقصود یہ تھا کہ قاتل نے اشتعال میں آ کر جذبات کی رو میں بہ کر کلہاڑی مار دی، قتل کرنا مقصود نہ تھا تو گویا قاتل کو قتل کرنا موجودہ صورت میں اسی کی طرح جذبات کی رو میں بہنا اور اپنا غصہ نکالنا ہے۔
أَن يَّبُوأَ بِإِثْمِكَ وَ إِثْمِ صَاحِبِكَ: یعنی اگر تم معاف کر دو گے تو تمہارا یہ فعل تمہارے لیے اور تمہارے مقتول بھائی کے لیے کفارہ سیئات بنے گا، تمہارے معاصی معاف ہو جائیں گے یا قاتل تمہارے بھائی کے قتل کے سبب اور تمہیں اس کو قتل کر کے اذیت و تکلیف میں مبتلا کر کے گناہ کا حقدار ہو گیا ہے، اگر اسے قتل کر دو گے تو یہ چیز اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی اور تمہیں کوئی اجر و ثواب حاصل نہیں ہو گا، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر قاتل، قتل کا اعتراف و اقرار کرے تو پھر شہادت قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور احناف اور مالکیہ کے نزدیک قتل عمد کی صورت میں اصل سزا، قصاص ہے، دیت صرف اس صورت میں ہے جب قاتل دیت دینے پر رضامند ہو، لیکن شوافع اور حنابلہ کے نزدیک قصاص یا دیت لینے کا اختیار وارث مقتول کو حاصل ہے، اگر وہ دیت کو لینا پسند کرے تو قاضی قاتل کو دیت کی ادائیگی پر مجبور کرے گا، نسائی کی تفصیلی روایت میں ہے کہ آپ نے وارث سے پوچھا تھا، اس کو معاف کرتے ہو، اس نے کہا، نہیں، فرمایا: دیت کے لیے آمادہ ہو، اس نے کہا، نہیں، تب آپ نے پوچھا، قصاص لینا چاہتے ہو، اس نے کہا، ہاں، اس طرح دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے، اصل اختیار وارث کو حاصل ہے، لیکن ظاہر ہے اس میں قاتل سے بھی پوچھا جائے گا، اگر اس کے پاس دیت دینے کا انتظام نہ ہو یا کسی سبب سے وہ ایسا نہ کرنا چاہے تو پھر جبر کرنا تو مشکل ہے اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معاف کرنا اور قصاص لینے سے درگزر کرنا بہتر اور افضل ہے۔
وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس قاتل کو جس نے قتل کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اسے مقتول کا ولی پکڑ کر لایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم معاف کرو گے؟ “ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” کیا قتل کرو گے؟ “ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ” جاؤ (قتل کرو) “، جب وہ (قتل کرنے) چلا تو آپ نے اسے بلا کر کہا: ” کیا تم معاف کرو گے؟ “ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” کیا دیت لو گے؟ “ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4727]
(2) مجرم کو باندھنا جائز ہے بالخصوص جب اس کے فرار ہونے اور بھاگ جانے کا اندیشہ ہو۔
(3) ”تیرے اور مقتول کے گناہ“ یعنی اس معافی کے بدلے میں تیرے اور مقتول کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور تم دونوں جنتی بن جاؤ گے۔ مقتول اس لیے کہ وہ ظلماً مارا گیا اور مقتول کا ولی اس لیے کہ اس نے قاتل کی جان بخش دی۔ گویا ایک شخص کو زندگی دی۔ اور یہ بہت بڑی نیکی ہے۔ یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں کہ قاتل کو دوگناہ ہوں گے۔ مقتول کو قتل کرنے کا اور تجھے (مقتول کے اولیاء کو) صدمہ اور نقصان پہنچانے کا، لیکن پہلے معنیٰ زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ واللہ أعلم!
(4) مقتول کے ورثاء کو تین باتوں میں سے صرف ایک کا اختیار ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ قاتل کو معاف کر دیں، یہ سب سے بہتر، افضل اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ اگر معاف نہیں کرتے تو پھر دیت، یعنی خون بہا لے لیں اور اسے چھوڑ دیں۔ یہ بھی بہتر ہے لیکن پہلے سے کم درجے کی نیکی ہے۔ اور تیسری اور آخری صورت قصاص میں قتل کرنا ہے۔ اس سے جس قدر بچ جائیں اتنا ہی بہتر ہے۔ اگر پہلی دونوں باتوں پر وہ آمادہ نہ ہوں تو پھر قاتل کو قصاص میں قتل کیا جائے گا اور بس۔
(5) رسول اللہ ﷺ کا مقتول کے وارث کو بار بار معاف کرنے کی تلقین کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ معافی پسندیدہ اور محبوب عمل ہے، نیز رسول اللہ ﷺ کے بار بار معافی کا شوق دلانے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شریعت اسلامیہ میں معاف کر دینا قصاص لینے سے بہتر ہے۔ اور مقتول کے اولیاء کو معافی کی رغبت دلانی چاہیے۔
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب قاتل کو لایا گیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، مقتول کا ولی اسے رسی میں کھینچ کر لا رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: ” کیا تم معاف کرو گے؟ “ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” کیا دیت لو گے؟ “ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” تو کیا تم قتل کرو گے؟ “ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ” لے جاؤ اسے “، چنانچہ جب وہ لے کر چلا اور رخ پھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4728]
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس کی گردن میں رسی پڑی تھی، اور بولا: اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اتنے میں اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی یعنی میرے بھائی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے معاف کر دو “، اس نے انکار کیا، اور کہا: اللہ کے نبی! یہ اور میرا بھائی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4730]
(2) معلوم ہوا قصاص کی بجائے معافی بہتر ہے خصوصاً جب کہ قاتل یہ عذر بھی پیش کرتا ہو کہ میری نیت قتل کی نہیں تھی، اگرچہ ایسی صورت میں معافی ضروری نہیں تبھی تو آپ نے قاتل مقتول کے ولی کے سپرد کر دیا تھا کہ وہ اسے قتل کر سکتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، فوائد ومسائل حدیث: 4726)
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب قاتل کو مقتول کا ولی ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتا ہوا لایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: ” کیا تم معاف کر دو گے؟ “ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” کیا دیت لو گے؟ “ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو اسے قتل کرو گے؟ “ کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے لے جاؤ “ (اور قتل کرو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5417]