حدیث نمبر: 4498
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ ، فَقَالَ الْقَاتِلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَلِيِّ : أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ ، قَالَ : فَخَلَّى سَبِيلَهُ ، قَالَ : وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص قتل کر دیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا ، آپ نے اس ( قاتل ) کو مقتول کے وارث کے حوالے کر دیا ، قاتل کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث سے فرمایا : ” سنو ! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا ، تو تم جہنم میں جاؤ گے “ یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا ، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے ، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا ، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑ گیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الديات / حدیث: 4498
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, الحديث الآتي (4499) شاھد له
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدیات 13 (1407)، سنن النسائی/القسامة 3 (4726)، سنن ابن ماجہ/الدیات 34 (2690)، (تحفة الأشراف: 12507) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1407 | سنن ابن ماجه: 2690 | سنن نسائي: 4726

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1407 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قصاص اور عفو کے سلسلے میں مقتول کے ولی (وارث) کے فیصلے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی قتل کر دیا گیا، تو قاتل مقتول کے ولی (وارث) کے سپرد کر دیا گیا، قاتل نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے اسے قصداً قتل نہیں کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اگر وہ (قاتل) اپنے قول میں سچا ہے پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے ۱؎ ، چنانچہ مقتول کے ولی نے اسے چھوڑ دیا، وہ آدمی رسی سے بندھا ہوا تھا، تو وہ رسی گھسیٹتا ہوا باہر نکلا، اس لیے اس کا نام ذوالنسعہ (رسی یا تسمے والا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1407]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ قاتل اپنے دعویٰ میں ا گر سچا ہے تو اسے قتل کردینے کی صورت میں ولی کے گناہ گار ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے اس کا نہ قتل کرنا زیادہ مناسب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1407 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4726 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´قصاص کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا گیا، قاتل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اسے مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا ۱؎، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! میرا ارادہ قتل کا نہ تھا، آپ نے مقتول کے ولی سے فرمایا: سنو! اگر وہ سچ کہہ رہا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا تو تم بھی جہنم میں جاؤ گے ، تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ شخص رسی سے بندھا ہوا تھا، وہ اپنی رسی گھسیٹتا ہوا نکلا تو اس کا نام ذوالنسعۃ ([سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4726]
اردو حاشہ: (1) مقتول کے وارث کو چاہیے کہ وہ قصاص لینے میں جلدی نہ کرے بلکہ معاف کر دے۔ اگرچہ قصاص لینا جائز ہے، تاہم معاف کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ ممکن ہے قاتل بے گناہ ہو یا اس نے جان بوجھ کر قتل نہ کیا ہو وغیرہ۔
(2) اس حدیث سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص کو اس کے کسی پیشے یا کسی اور خصوصیت کی وجہ سے کوئی لقب دیا جائے اور وہ اسے برا نہ سمجھے تو اس کا جواز ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور شخص کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ذوالنسعہ (رسی یا تندی والا) کہا کرتے تھے، یعنی اس کے گلے وغیرہ میں پڑی رسی کی وجہ سے اس کا لقب ہی ذوالنسعہ پڑ گیا۔
(3) سپرد کر دیا شریعت کی رو سے قصاص کا حق مقتول کے ورثاء کو ہے۔ وہ چاہیں تو قتل کریں، چاہیں معاف کر دیں، اس لیے آپ نے قاتل کو مقتول کے ولی کے سپرد کر دیا۔ یہ ضروری نہیں کہ حکومت خود قتل کرے، تاہم جج کے فیصلے سے پہلے از خود ہی قاتل کو قتل کرنا درست نہیں کیونکہ یہ قانون کو ہاتھ میں لینے والی بات ہے، البتہ جب قاضی قاتل حوالے کرے تو پھر اسے قتل کرنا جائز ہے۔
(4) آگ میں جائے گا۔ کیونکہ جان بوجھ کر قتل کرنے والے ہی کو قصاصاً قتل کیا جا سکتا ہے۔ قاتل کے بیان کے مطابق اس سے یہ قتل عمداً سرزد نہیں ہوا تھا، لہٰذا وہ قتل کا مستحق نہیں تھا لیکن آپ کا قاتل کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کر دینا یہ بتانا ہے کہ اس قتل کی ظاہری صورت عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے) ہی کی تھی۔ قاتل کی نیت کو تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ گویا ایسی صورت میں بھی مقتول کے ورثاء کو چاہیے کہ وہ قاتل کی جان بخشی کر دیں تاکہ کوئی شخص ناحق قتل نہ ہو۔ اگرچہ قاضی ظاہر حالات کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا، تاہم مقتول کے ورثاء یہ رعایت دے سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4726 سے ماخوذ ہے۔