حدیث نمبر: 4492
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` انہوں نے ابوبردہ انصاری سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4492
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6850) صحيح مسلم (1708)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11720) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تعزیر کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوبردہ انصاری سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4492]
فوائد ومسائل:
امام ابن قیم رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں حدود اللہ سے مراد وہ اوامر و نواہی ہیں جن کا تعلق آداب سے ہو، جیسے کہ باپ اپنے بچے کی تادیب کرتا ہے۔
امام مالک ابویوسف اور ابو ثور رحمتہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں کہ تعزیز جرم کے مطابق ہوا کرتی ہے اور یہ کہ مجرم اسے کس حد تک برداشت کرسکتا ہے۔
اور اس میں اصل چیز مصلحت کو پیش نظررکھنا ہوتا ہے اس لئے معروف حدود کی مقدار سے زیادہ مارنا جائز ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھیے: (تيسير العلام شرض عمدة الأحكام)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4492 سے ماخوذ ہے۔