حدیث نمبر: 4490
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ زُفَرَ بْنِ وَثِيمَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ ، وَأَنْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُودُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے ، اشعار پڑھنے اور حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4490
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, في سماع زفر بن وثيمة من حكيم بن حزام نظر, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (4487)، (تحفة الأشراف: 3425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/434) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسجد میں حدود کا نفاذ ممنوع ہے۔`
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے، اشعار پڑھنے اور حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4490]
فوائد ومسائل:
1) یہ روایات سندا ضعیف ہے، لیکن دیگر شواہد کی بنا پر حسن درجہ تک پہنچ جاتی ہے۔
ان شواہد کی وضاحت ہمارے فاضل محقق نے تخریج وتحقیق میں کی ہے، علاوہ ازیں شیخ البانی رحمتہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔

2) مساجد اس غرض سے بنائی جاتی ہیں کہ ان میں نماز پڑھی جائے تلاوت قرآن ہواور اللہ کا ذکر کیا جائے۔
قصاص یا حدود اگرچہ شرعی امور ہیں، مگر ان سےمسجد کا ادب قائم نہیں رہتا ہے۔
اسی طرح لغو اور بے ہودہ اشعار پڑھنا بھی ناجائز ہے۔
البتہ اللہ کی حمدوثناء رسول اللہﷺ کی نعت اور شرعی مضامین پر مشتمل اشعار پرھے اور سنے جا سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4490 سے ماخوذ ہے۔