سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ باب: جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَارِبٍ وَهُوَ بِحُنَيْنٍ ، فَحَثَى فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَضَرَبُوهُ بِنِعَالِهِمْ وَمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ ، حَتَّى قَالَ لَهُمْ : ارْفَعُوا فَرَفَعُوا ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ ، ثُمَّ جَلَدَ عُمَرُ أَرْبَعِينَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ، ثُمَّ جَلَدَ ثَمَانِينَ فِي آخِرِ خِلَافَتِهِ ، ثُمَّ جَلَدَ عُثْمَانُ الْحَدَّيْنِ كِلَيْهِمَا ثَمَانِينَ وَأَرْبَعِينَ ، ثُمَّ أَثْبَتَ مُعَاوِيَةُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ " .
´عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا ، اور آپ حنین میں تھے ، آپ نے اس کے منہ پر خاک ڈال دی ، پھر اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے جوتوں سے ، اور جو چیزیں ان کے ہاتھوں میں تھیں ان سے مارا ، یہاں تک کہ آپ فرمانے لگے : ” بس کرو ، بس کرو “ تب لوگوں نے اسے چھوڑا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی شراب کی حد میں چالیس کوڑے مارتے رہے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں چالیس کوڑے ہی مارے ، پھر خلافت کے اخیر میں انہوں نے اسی کوڑے مارے ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے کبھی اسی کوڑے اور کبھی چالیس کوڑے مارے ، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑوں کی تعیین کر دی ۔