حدیث نمبر: 4487
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ الْمِصْرِيُّ ابْنُ أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآنَ وَهُوَ فِي الرِّحَالِ يَلْتَمِسُ رَحْلَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : اضْرِبُوهُ ، فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالنِّعَالِ وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْعَصَا وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِالْمِيتَخَةِ ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : الْجَرِيدَةُ الرَّطْبَةُ ، ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرَابًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَى بِهِ فِي وَجْهِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں آپ کجاؤں کے درمیان میں کھڑے تھے ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا کجاوہ ڈھونڈ رہے تھے ، آپ اسی حالت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا : ” اسے مارو “ ، تو کسی نے جوتے سے ، کسی نے چھڑی سے ، اور کسی نے کھجور کی ٹہنی سے اسے مارا ( ابن وہب کہتے ہیں ) «ميتخة» کے معنی کھجور کی تر ٹہنی کے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی لی اور اس کے چہرے پر ڈال دی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4487
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, الزھري صرح بالسماع
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9685)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 4/87، 88، 350، 351) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4488 | سنن ابي داود: 4489