سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب إِذَا تَتَابَعَ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ باب: جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4486
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَا أَدِي أَوْ مَا كُنْتُ لِأَدِيَ مَنْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ حَدًّا إِلَّا شَارِبَ الْخَمْرِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّ فِيهِ شَيْئًا إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ قُلْنَاهُ نَحْنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا ، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے ، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4486]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4486]
فوائد ومسائل:
اس مسئلے میں پچھلا باب ملاخطہ ہو۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس بات سے بالاتر تھے کہ شریعت میں کوئی چیز محض اپنی رائے سے ناٖفذ کریں۔
انہوں نے شرعی اصولوں کے تحت اجتہاد اور مشورے سے یہ حد متعین کی ہے۔
اور یہ اصول بالکل حق ہے کہ حد لگانے میں مجرم کی صحت اور برداشت کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔
اس مسئلے میں پچھلا باب ملاخطہ ہو۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس بات سے بالاتر تھے کہ شریعت میں کوئی چیز محض اپنی رائے سے ناٖفذ کریں۔
انہوں نے شرعی اصولوں کے تحت اجتہاد اور مشورے سے یہ حد متعین کی ہے۔
اور یہ اصول بالکل حق ہے کہ حد لگانے میں مجرم کی صحت اور برداشت کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4486 سے ماخوذ ہے۔