حدیث نمبر: 4482
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاقْتُلُوهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب وہ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ ، پھر پئیں تو انہیں قتل کر دو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4482
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3619)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحدود 15 (1444)، سنن ابن ماجہ/الحدود 17 (2573)، (تحفة الأشراف: 11412)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 4/95، 96، 100) (حسن صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو باربار شراب پیئے اس کی سزا کا بیان۔`
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو انہیں قتل کر دو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4482]
فوائد ومسائل:
امام ترمذی رحمتہ اللہ کتاب العلل میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث کے ترک یعنی منسوخ ہونے پر علماء کا اجماع ہے۔
اور اس حدیث کی تاویل یہ ہے کہ اس سے مراد سخت مار ہے۔
اور اگلی حدیث(4485) کو اس کا ناسخ سمجھا جاتا ہے۔
علامہ زیلعی رحمۃاللہ علیہ نے بحوالہ ابن حبان لکھا ہے کہ قتل کا حکم اس کے لیے ہے جو اس کی حلت کا قائل ہو اور حرمت کوقبول نہ کرتا ہو۔
(عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4482 سے ماخوذ ہے۔