سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب الْحَدِّ فِي الْخَمْرِ باب: شراب کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4481
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ الدَّانَاجِ ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وقَالَ الْأَصْمَعِيُّ : وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّيْ قَارَّهَا وَلِّ شَدِيدَهَا مَنْ تَوَلَّى هَيِّنَهَا ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا كَانَ سَيِّدَ قَوْمِهِ حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب میں چالیس کوڑے ہی مارے ، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے پورے کئے ، اور یہ سب سنت ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اصمعی کہتے ہیں : «من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها» کے معنی یہ ہیں جو خلافت کی آسانیوں کا ذمہ دار رہا ہے اسی کو اس کی دشواریوں کا ذمہ دار رہنا چاہیئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اپنی قوم کے سردار تھے یعنی حضین بن منذر ابوساسان ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1707 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام صاحب چار اساتذہ کی دو سندوں سے ابو ساسان حضین بن منذر سے بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفان ؓ کے پاس حاضر تھا کہ ان کے سامنے ولید ؓ کو لایا گیا، اس نے صبح کی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد پوچھا، کیا تمہیں اور نماز پڑھا دوں؟ تو اس کے بارے میں دو آدمیوں نے گواہی دی، ان میں ایک حمران ؓ تھے، اس نے کہا، اس نے شراب پی ہے۔ اور دوسرے نے گواہی دی، میں نے اسے قے کرتے دیکھا ہے تو حضرت عثمان ؓ نے کہا، شراب پی ہے تو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4457]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: لم يتقيا حتي شربها: شراب نوشی کے بغیر اس کو قے نہیں ہو سکتی، امام مالک اور امام احمد کے راجح قول کے مطابق، شراب کی قے کی شہادت سے شراب نوشی ثابت ہو جاتی ہے، اس لیے اس پر حد لازم ہو جاتی ہے، لیکن امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک، شراب کی قے سے حد لازم نہیں ٹھہرتی، کیونکہ ممکن ہے مجبور اور اضطراری حالت میں یا غلط فہمی سے پی ہو، لیکن بقول علامہ تقی مالکیہ اور حنابلہ کا موقف مضبوط ہے، کیونکہ اس کو خلفائے راشدین کے فیصلہ جات کی تائید حاصل ہے، عقلا بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور آج کل کے بگڑے ہوئے حالات کا تقاضا بھی یہی ہے اس لیے امام نووی سے اس کو ترجیح دی ہے، (تکملہ ج 2 ص 505)
ولي حارها من تولي قارها: ایک ضرب المثل ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو کسی چیز کے فائدہ اور منافع سے متمتع ہوتا ہے، اس کا اگر کوئی نقصان ہو تو وہ بھی اسے ہی برداشت کرنا چاہیے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب خلافت کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو یہ سختی اور شدت کا کام جس سے محدود اور اس کے اقارب کے دل میں نفرت پیدا ہو گی، بھی خود ہی سرانجام دیں، حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تکریم و توقیر کرتے ہوئے، انہیں یہ ذمہ داری سونپی تھی، صحیح بخاری میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب میں آیا ہے کہ حضرت علی نے اَسی کوڑے لگوائے تھے اور تطبیق کی صورت یہ ہے، جیسا کہ بعض روایات میں موجود ہے کہ چالیس کوڑے لگوائے تھے، لیکن اس کے سرے دو تھے، اس لیے جس نے کوڑے کا لحاظ رکھا چالیس کہا اور جس نے کوڑے کے دو سرے سامنے رکھے، اس نے (80)
کہا، اس طرح گویا، چالیس کوڑے دہرے مارنا پسندیدہ عمل قرار دیا، اس لیے كل سنة کا معنی یہ ہو سکتا ہے، اَسی (80)
کوڑے اور چالیس دہرے کوڑے، دونوں سنت ہیں اور اَسی (80)
کوڑے لگانے کا مشورہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی دیا تھا۔
(فتح الباری، ج 12، ص 85)
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
ولي حارها من تولي قارها: ایک ضرب المثل ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو کسی چیز کے فائدہ اور منافع سے متمتع ہوتا ہے، اس کا اگر کوئی نقصان ہو تو وہ بھی اسے ہی برداشت کرنا چاہیے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب خلافت کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو یہ سختی اور شدت کا کام جس سے محدود اور اس کے اقارب کے دل میں نفرت پیدا ہو گی، بھی خود ہی سرانجام دیں، حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تکریم و توقیر کرتے ہوئے، انہیں یہ ذمہ داری سونپی تھی، صحیح بخاری میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب میں آیا ہے کہ حضرت علی نے اَسی کوڑے لگوائے تھے اور تطبیق کی صورت یہ ہے، جیسا کہ بعض روایات میں موجود ہے کہ چالیس کوڑے لگوائے تھے، لیکن اس کے سرے دو تھے، اس لیے جس نے کوڑے کا لحاظ رکھا چالیس کہا اور جس نے کوڑے کے دو سرے سامنے رکھے، اس نے (80)
کہا، اس طرح گویا، چالیس کوڑے دہرے مارنا پسندیدہ عمل قرار دیا، اس لیے كل سنة کا معنی یہ ہو سکتا ہے، اَسی (80)
کوڑے اور چالیس دہرے کوڑے، دونوں سنت ہیں اور اَسی (80)
کوڑے لگانے کا مشورہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی دیا تھا۔
(فتح الباری، ج 12، ص 85)
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1707 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2571 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شرابی کی حد کا بیان۔`
حضین بن منذر رقاشی کہتے ہیں کہ جب ولید بن عقبہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اٹھئیے اور اپنے چچا زاد بھائی پر حد جاری کیجئے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے مارے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے، اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2571]
حضین بن منذر رقاشی کہتے ہیں کہ جب ولید بن عقبہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اٹھئیے اور اپنے چچا زاد بھائی پر حد جاری کیجئے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے مارے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے، اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2571]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
خلفائے راشدین کا عمل سنت ہےاور اسے دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
نبی اکرمﷺ نےفرمایا: ’’میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت اختیار کرو۔‘‘ (جامع الترمذی، العلم، باب ماجاء فی أخذ بالسنة واجتناب البدعة‘ حدیث: 2672)
فوائد و مسائل:
خلفائے راشدین کا عمل سنت ہےاور اسے دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
نبی اکرمﷺ نےفرمایا: ’’میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت اختیار کرو۔‘‘ (جامع الترمذی، العلم، باب ماجاء فی أخذ بالسنة واجتناب البدعة‘ حدیث: 2672)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2571 سے ماخوذ ہے۔