حدیث نمبر: 4480
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ ، حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ هُوَ أَبُو سَاسَانَ ، قَالَ : " شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ ، فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ ، وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ شَرِبَهَا يَعْنِي الْخَمْرَ وَشَهِدَ الْآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّى شَرِبَهَا ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، قَالَ : فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ ، قَالَ : حَسْبُكَ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حضین بن منذر رقاشی ابوساسان کہتے ہیں کہ` میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو ان کے پاس لایا گیا ، اور حمران اور ایک اور شخص نے اس کے خلاف گواہی دی ، ان میں سے ایک نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی ہے ، اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اسے ( شراب ) قے کرتے دیکھا ہے ، تو عثمان نے کہا : جب تک پیئے گا نہیں قے نہیں کر سکتا ، پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو ، تو علی نے حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو ، تو حسن نے کہا : جو خلافت کی آسانیوں اور خیرات کا ذمہ دار رہا ہے وہی اس کی سختیوں اور برائیوں کا بھی ذمہ دار ہے ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو ، تو انہوں نے کوڑا لے کر اسے مارنا شروع کیا ، اور علی رضی اللہ عنہ گننے لگے ، تو جب چالیس کوڑے ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : بس کافی ہے ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے ہی مارے ہیں ، اور میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے ہیں ، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی ، اور سب سنت ہے ، اور یہ چالیس کوڑے مجھے زیادہ پسند ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4480
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1707)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحدود 8 (1707)، سنن ابن ماجہ/الحدود 16 (2571)، (تحفة الأشراف: 1352، 10080)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحدود 4 (6773)، مسند احمد (1/82، 140، 144)، سنن الدارمی/الحدود 9 (2358) (صحیح) »