حدیث نمبر: 4478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ بِإِسْنَادِهِ ، وَمَعْنَاهُ قَالَ فِيهِ بَعْدَ الضَّرْبِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : بَكِّتُوهُ ، فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ ، يَقُولُونَ : مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ مَا خَشِيتَ اللَّهَ وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : وَلَكِنْ قُولُوا : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ الْكَلِمَةَ وَنَحْوَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن الہاد سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے اس میں ہے کہ` اسے مار چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” تم لوگ اسے زبانی عار دلاؤ “ ، تو لوگ اس کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئے : ” نہ تو تو اللہ سے ڈرا ، نہ اس سے خوف کھایا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمایا “ پھر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا ، اور اس کے آخر میں ہے : ” لیکن یوں کہو : اے اللہ اس کو بخش دے ، اس پر ر حم فرما “ کچھ لوگوں نے اس سیاق میں کچھ کمی بیشی کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4478
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3621), انظر الحديث السابق (4477)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14999) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شراب کی حد کا بیان۔`
ابن الہاد سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے اس میں ہے کہ اسے مار چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تم لوگ اسے زبانی عار دلاؤ ، تو لوگ اس کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئے: نہ تو تو اللہ سے ڈرا، نہ اس سے خوف کھایا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمایا پھر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا، اور اس کے آخر میں ہے: لیکن یوں کہو: اے اللہ اس کو بخش دے، اس پر ر حم فرما کچھ لوگوں نے اس سیاق میں کچھ کمی بیشی کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4478]
فوائد ومسائل:
حد شرعی لگ جانے کے بعد ایسے شخص کے لئےاستغفار اور رحمت کی دعا کرنی چاہئے۔
برے انداز میں تزلیل کے الفاظ بولنا جائز نہیں، کیونکہ اس سے بعض اوقات منفی ردعمل کی نفسیات کو انگیخت ملتی ہے اور پھر کئی لوگ اپنی برائی سے باز آنے کی بجائے اس پر اور ڈھیٹ ہو جاتے ہیں۔
اسی مفہوم کو شیطان کی مدد سے تعبیر کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4478 سے ماخوذ ہے۔