حدیث نمبر: 4475
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق بِهَذَا الْحَدِيثِ ، لَمْ يَذْكُرْ عَائِشَةَ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ مِمَّنْ تَكَلَّمَ بِالْفَاحِشَةِ : حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَمِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ : وَيَقُولُونَ : الْمَرْأَةُ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی محمد بن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے : آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی ( کوڑے لگانے کا ) حکم دیا ، وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تھے نفیل کہتے ہیں : اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4475
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (4474)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17898) (حسن) » (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´زنا کی تہمت کی حد کا بیان۔`
اس سند سے بھی محمد بن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی (کوڑے لگانے کا) حکم دیا، وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تھے نفیل کہتے ہیں: اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4475]
فوائد ومسائل:
تہمت کی حداسی درے(کوڑے) ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ معصوم عن الخطا نہ تھے اور ہمارے لیے ضروری ہے کہ ان کے لئے ہمیشہ دعا کیا کریں۔
(رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4475 سے ماخوذ ہے۔