سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ، أَوْ نَسِيَهَا باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَكْلَؤُنَا ، فَقَالَ بِلَالٌ : أَنَا ، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ " .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ، آپ نے فرمایا : ” رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا ؟ “ ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے “ ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی سو جائے یا ( نماز پڑھنی ) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ نے فرمایا: ”رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا؟“، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی سو جائے یا (نماز پڑھنی) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 447]
ہنگامی حالات میں قائد اور اس کے ساتھیوں کو چاہیے کہ پرسکون اور بااعتماد رہا کریں۔