حدیث نمبر: 447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَكْلَؤُنَا ، فَقَالَ بِلَالٌ : أَنَا ، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ، آپ نے فرمایا : ” رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا ؟ “ ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے “ ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی سو جائے یا ( نماز پڑھنی ) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جس طرح وقت پر ادا کی جانے والی نماز میں کیا جاتا ہے اسی طرح اس کی قضا نماز میں کرے، پس فجر کی قضا نماز میں بھی قرات جہری ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن النسائی/المواقیت 54 (625)، (تحفة الأشراف: 9371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/386، 391، 464) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ نے فرمایا: رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا؟، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے۔‏‏‏‏ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی سو جائے یا (نماز پڑھنی) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 447]
447۔ اردو حاشیہ:
ہنگامی حالات میں قائد اور اس کے ساتھیوں کو چاہیے کہ پرسکون اور بااعتماد رہا کریں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 447 سے ماخوذ ہے۔