سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب فِيمَنْ أَتَى بَهِيمَةً باب: جانور سے جماع کرنے والے کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 4465
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، أَنَّ شَرِيكًا ، وَأَبَا الْأَحْوَصِ ، وَأَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ ، حَدَّثُوهُمْ عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ حَدٌّ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ ، وقَالَ الْحَكَمُ : أَرَى أَنْ يُجْلَدَ وَلَا يُبْلَغَ بِهِ الْحَدَّ ، وقَالَ الْحَسَنُ : هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي ، قَالَ أَبُو دَاوُد : حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے ، ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عطاء نے کہا ہے ۔ اور حکم کہتے ہیں : میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں ، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں ۔ اور حسن کہتے ہیں : وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۴۴۶۲)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جانور سے جماع کرنے والے کی سزا کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4465]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4465]
فوائد ومسائل:
مندرجہ بالا بدفعلی کی حرمت پرسب کا اتفاق ہے۔
فاعل کو حد یا تعزیز دونوں طرح کے فتوے فقہاء سے مروی ہیں۔
اور جانور کے متعلق یہ ہے کہ اسےقتل کردیا جائے۔
مندرجہ بالا بدفعلی کی حرمت پرسب کا اتفاق ہے۔
فاعل کو حد یا تعزیز دونوں طرح کے فتوے فقہاء سے مروی ہیں۔
اور جانور کے متعلق یہ ہے کہ اسےقتل کردیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4465 سے ماخوذ ہے۔