حدیث نمبر: 4461
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ الدِّرْهَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ لَسَيِّدَتِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ` اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو ، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4461
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه النسائي (3366 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4559) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بیوی کی لونڈی سے زنا کرنے والے شخص کے حکم کا بیان۔`
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4461]
فوائد ومسائل:
بیوی کی مملوکہ لونڈی سے زنا کے بارے میں صحابہ کے اقوال مختلف ہیں۔
شیخ شوکانی رحمتہ اللہ نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو ترجیح دی ہے۔
اوراس کی وجہ یہ ہے کہ بیوی کی ملکیت میں شوہر کے تصرف کی وجہ سے ایک شبہ موجود ہے اس لئے رجم نہ کیا جائے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4461 سے ماخوذ ہے۔