حدیث نمبر: 4460
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ : إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا ، فَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ وَسَلَّامٌ عَنْ الْحَسَنِ ، هَذَا الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ ، لَمْ يَذْكُرْ يُونُسُ ، وَمَنْصُورٌ قَبِيصَةَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے ، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی ، اور اگر لونڈی نے خوشی سے اس کی مان لی ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی ، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کسی فقیہ کو نہ پایا جس نے اس حدیث کے مطابق فتویٰ دیا ہو، شاید یہ حدیث منسوخ ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4460
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه النسائي (3365) الحسن صرح بالسماع عند البيھقي (8/ 240)
تخریج حدیث « سنن النسائی/النکاح 70 (3365)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2552)، (تحفة الأشراف: 4559)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 3/476، 5/6) (ضعیف) » (قتادہ اور حسن بصری مدلس راوی ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2552 | سنن نسائي: 3365 | سنن نسائي: 3366

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2552 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بیوی کی لونڈی سے صحبت کے حکم کا بیان۔`
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد نافذ نہیں کی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2552]
اردو حاشہ:
فائدہ: بیوی کی مملوکہ لونڈی سے زنا کے بارے میں صحابہ کے اقوال مختلف ہیں۔
امام شوکانی رحمہ اللہ نےحضرت نعمان بن بشیر کے فیصلے کو ترجیح دی ہےاور اس کی وجہ یہ ہے بیوی کی ملکیت میں شوہر کے تصرف کی وجہ سے ایک شبہ موجود ہے اس لیے رجم نہ کیا جائے۔
واللہ أعلم۔
 تفصیل کے لیے دیکھیے: (عون المعبود شرح سنن أبي داؤد: 99، 96/12)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2552 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3365 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شرمگاہ کو کسی کے لیے حلال کر دینا (درست نہیں ہے)۔`
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا فیصلہ جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا تھا (اس طرح) فرمایا: اگر اس نے اس کے ساتھ زبردستی زنا کی ہے تو وہ لونڈی آزاد ہو جائے گی اور اس شخص کو اس لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی اور اگر (مرد نے زبردستی نہیں کی بلکہ) لونڈی کی رضا مندی سے یہ کام ہوا تو یہ لونڈی اس (مرد) کی ہو جائے گی اور اس مرد کو لونڈی کی مالکہ کو اس جیسی لونڈی دینی ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3365]
اردو حاشہ: یہ حدیث بشرط صحت ممکن ہے حدود کا حکم نازل ہونے سے پہلے ارشاد فرمائی گئی ہو۔ اب تو حدود کا نفاذ ناگزیر ہے۔ ایسی صورت میں اس شخص کو بہر حال رجم کیا جائے گا‘ خواہ لونڈی راضی تھی یا اس سے جبراً جماع کیا گیا‘ البتہ جبر کی صورت میں لونڈی کو معافی ہوگی‘ رضا ورغبت کی صورت میں اسے پچاس کوڑے لگیں گے۔ لیکن اگر بیوی نے اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قراردیا ہو تو خاوند کو بجائے رجم کے کوڑے مارے جائیں گے جیساکہ سابقہ احادیث میں گزرا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3365 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3366 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شرمگاہ کو کسی کے لیے حلال کر دینا (درست نہیں ہے)۔`
سلمہ بن محبق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کیا، یہ قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر اس نے اس لونڈی کے ساتھ زنا بالجبر (زبردستی زنا) کیا ہے تو یہ لونڈی اس کے مال سے آزاد ہو گی اور اسے اس جیسی دوسری لونڈی اس کی مالکہ کو دینی ہو گی اور اگر لونڈی نے اس کام میں مرد کا ساتھ دیا ہے (اور اس کی خوشی و رضا مندی سے یہ کام ہوا ہے) تو یہ لونڈی اپنی مالکہ (یعنی بیوی) ہی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3366]
اردو حاشہ: یہ حدیث پہلی حدیث سے کچھ مختلف ہے۔ رضا ورغبت کی وجہ سے سابقہ حدیث کی رو سے وہ لونڈی خاوند کی بن جائے گی۔ اور اس حدیث کی رو سے لونڈی ہی کی رہے گی‘ لیکن چونکہ یہ حدیث اب قابل عمل نہیں‘ منسوخ ہے‘ لہٰذا اس میں اختلاف کا کوئی اثر نہ پڑے گا۔ ویسے بھی یہ دونوں روایات بہت سے محبققین کے نزدیک ضعیف ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3366 سے ماخوذ ہے۔