سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب فِي الرَّجُلِ يَزْنِي بِحَرِيمِهِ باب: محرم سے زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4456
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ لِي ضَلَّتْ إِذْ أَقْبَلَ رَكْبٌ أَوْ فَوَارِسُ مَعَهُمْ لِوَاءٌ ، فَجَعَلَ الْأَعْرَابُ يَطِيفُونَ بِي لِمَنْزِلَتِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَتَوْا قُبَّةً فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا فَضَرَبُوا عُنُقَهُ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَذَكَرُوا أَنَّهُ أَعْرَسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے ، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا ، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے ، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے ، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی ، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´محرم سے زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4456]
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4456]
فوائد ومسائل:
باپ کی منکوحہ بیٹے کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔
سورۃ النساء: آیت٢٢ میں بالصراحت وارد ہے: (ولا تنكحُوا ما نَکَحَ آباؤُكُم مِنَ النِّسَاءِ) اور اس جرم کی سزا قتل ہے۔
باپ کی منکوحہ بیٹے کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔
سورۃ النساء: آیت٢٢ میں بالصراحت وارد ہے: (ولا تنكحُوا ما نَکَحَ آباؤُكُم مِنَ النِّسَاءِ) اور اس جرم کی سزا قتل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4456 سے ماخوذ ہے۔