سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ، أَوْ نَسِيَهَا باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ الْحَبَشِيِّ وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءًا لَمْ يَلْثَ مِنْهُ التُّرَابُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ عَجِلٍ ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ : أَقِمْ الصَّلَاةَ . ثُمَّ صَلَّى الْفَرْضَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ ، قَالَ : عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ ، حَدَّثَنِي ذُو مِخْبَرٍ رَجُلٌ مِنْ الْحَبَشَةِ ، وقَالَ عُبَيْدٌ : يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ .
´ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ ( خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اتنے پانی سے ) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں ، پھر بلال رضی اللہ عنہ سے کہا : ” نماز کے لیے تکبیر کہو “ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا ۔ حجاج کی روایت میں «عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة» ہے اور عبید کی روایت میں «يزيد بن صليح» کے بجائے «يزيد بن صالح.» ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ (خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اتنے پانی سے) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں، پھر بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: ”نماز کے لیے تکبیر کہو“ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا۔ حجاج کی روایت میں «عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة» ہے اور عبید کی روایت میں «يزيد بن صليح» کے بجائے «يزيد بن صالح.» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 445]
قضا نماز بھی انسان کو سکون، اطمینان اور اعتدال سے ادا کرنی چاہیے۔