حدیث نمبر: 445
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ الْحَبَشِيِّ وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءًا لَمْ يَلْثَ مِنْهُ التُّرَابُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ عَجِلٍ ، ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ : أَقِمْ الصَّلَاةَ . ثُمَّ صَلَّى الْفَرْضَ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ ، قَالَ : عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ ، حَدَّثَنِي ذُو مِخْبَرٍ رَجُلٌ مِنْ الْحَبَشَةِ ، وقَالَ عُبَيْدٌ : يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ ( خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اتنے پانی سے ) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں ، پھر بلال رضی اللہ عنہ سے کہا : ” نماز کے لیے تکبیر کہو “ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا ۔ حجاج کی روایت میں «عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة» ہے اور عبید کی روایت میں «يزيد بن صليح» کے بجائے «يزيد بن صالح‏.» ہے ۔

وضاحت:
ثابت ہوا کہ قضاء نماز بھی انسان کو سکون، اطمینان، اور اعتدال سے ادا کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 445
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يزيد بن صالح: مجھول الحال لا يعتبر به ولم يثبت توثيقه عن أبي داود, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3548)، وقد أخرجہ: (4/90) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟`
ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ (خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اتنے پانی سے) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں، پھر بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: نماز کے لیے تکبیر کہو تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا۔ حجاج کی روایت میں «عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة» ہے اور عبید کی روایت میں «يزيد بن صليح» کے بجائے «يزيد بن صالح‏.» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 445]
445۔ اردو حاشیہ:
قضا نماز بھی انسان کو سکون، اطمینان اور اعتدال سے ادا کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 445 سے ماخوذ ہے۔