سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب فِي رَجْمِ الْيَهُودِيَّيْنِ باب: دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ قَدْ حُمِّمَ وَجْهُهُ وَهُوَ يُطَافُ بِهِ ، فَنَاشَدَهُمْ : مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِهِمْ ؟ قَالَ : فَأَحَالُوهُ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ ، فَنَشَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا حَدُّ الزَّانِي فِي كِتَابِكُمْ ؟ فَقَالَ : الرَّجْمُ ، وَلَكِنْ ظَهَرَ الزِّنَا فِي أَشْرَافِنَا ، فَكَرِهْنَا أَنْ يُتْرَكَ الشَّرِيفُ وَيُقَامُ عَلَى مَنْ دُونَهُ ، فَوَضَعْنَا هَذَا عَنَّا ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا مَا أَمَاتُوا مِنْ كِتَابِكَ " .
´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے ؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے ؟ تو اس نے کہا : رجم ہے ، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہو گیا ، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائے اور جو ایسے نہ ہوں ان پر حد جاری کی جائے ، تو ہم نے اس حکم ہی کو اپنے اوپر سے اٹھا لیا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کا حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیری کتاب میں سے اس حکم کو زندہ کیا ہے جس پر لوگوں نے عمل چھوڑ دیا تھا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ تو اس نے کہا: رجم ہے، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہو گیا، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4447]
کسی مردہ سنت کو زندہ کر نا اوراس پرعمل کرنا کرانا بہٹ بڑی عزیمت کا کام ہے اور اس کی فضیلت میں وارد ہے کہ بعد میں اس پر عمل کرنے والے سب لوگوں کے ثواب کے برابر اس پہلے آدمی کو ثواب ملتا ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک یہودی گزارا گیا جس کے منہ پر سیاہی ملی گئی تھی، اسے کوڑے مارے گئے تھے تو آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا: کیا تورات میں تم زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: ہم تم سے اس اللہ کا جس نے تورات نازل کی ہے واسطہ دے کر پوچھتے ہیں، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: نہیں، اور اگر آپ مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو ہرگز نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4448]
اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق عمل اور فیصلہ نہ کرنا اور صلاحیت ہوتے ہوئے معاشرے میں اس کی تنقید نہ کرنا کفر ہے، ظلم ہے اور فسق ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور جس کو کوڑے لگائے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو بلایا اور پوچھا: ” کیا تم لوگ اپنی کتاب توریت میں زانی کی یہی حد پاتے ہو “؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا، اور اس سے پوچھا: ” میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس نے موسیٰ پر توراۃ نازل فرمائی: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد یہی پاتے ہو “؟ اس نے جواب دیا: نہیں، اور اگر آپ نے مجھے اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2558]
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کے قوانین کوتبدیل کرکے اپنے بنائے ہوئے قوانین کو اللہ کے قوانین کہنا یہودیوں کی صفت ہے۔
مسلمانوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
(2)
جو رسم و رواج شریعت کے خلاف ہوں انھیں شریعت کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
(3)
بائبل کے موجوہ نسخوں میں بھی زنا کے مجرم کےلیے سزائے موت کا ذکرموجود ہے۔
حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کتاب استثنا میں اس طرح درج ہے۔
’’اگر کوئی مرد کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے پکڑا جائے تو دونوں مار ڈالے جائیں یعنی وہ مرد بھی جس نے عورت سے صحبت کی اور وہ عورت بھی۔
یوں تو اسرئیل میں سے ایسی برائی کو دفع کرنا اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہو گئی ہو دوسرا آدمی اسے شہر میں پا کر اس سے صحبت کرے تو تم ان دونوں کو اس شہر کے پھاٹک تک نکال لانا اور اسے سنگسار کر دینا کہ وہ مر جائیں۔‘‘ (استثناء باب: 22فقرہ22تا24)
(4)
قانون کا نفاذ امیرغریب سب پر یکساں ہونا چاہیے۔
(5)
صیحح مسئلہ چھپا لینا یہودیوں کی عادت ہے۔
(6)
غیرمسلم سے بھی غیراللہ کی قسم لینا جائز نہیں بلکہ اس سےاللہ کی صفت کا ذکر کر کے قسم لی جائےجس کا وہ بھی قائل ہو۔