حدیث نمبر: 4441
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا يَعْنِي فَشُدَّتْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اوزاعی سے مروی ہے` اس میں ہے «فشكت عليها ثيابها» کے معنی یہ ہیں کہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے ( تاکہ پتھر مارنے میں وہ نہ کھلیں ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (4440)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10881) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا۔`
اوزاعی سے مروی ہے اس میں ہے «فشكت عليها ثيابها» کے معنی یہ ہیں کہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے (تاکہ پتھر مارنے میں وہ نہ کھلیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4441]
فوائد ومسائل:
1) كسی شخص کا قاضی اور امام کے روبرو ازخود اعتراف کرنا کہ اس نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے، بہت بڑی ہمت اور عزیمت کی بات ہے جو اس کے صاحب ایمان ہونے کی دلیل ہے۔

2)عورت اگر زنا سے حاملہ ہو تو وضع حمل بلکہ بچے کے سنبھلنے تک اس کی حد کو موخر کر دینا چاہئے۔

3) عورت کو حد لگانے سے پہلے اس کے کپڑے مضبوطی سے باندھ لینے چاہئیں تاکہ بے پردہ نہ ہو۔

4) سنگسار شدہ پر نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے، لیکن اگر وہ فسق وفجور میں مشہور ہو تو امام اور دیگراشراف اس میں شریک نہ ہوں تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4441 سے ماخوذ ہے۔