سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلاَةِ، أَوْ نَسِيَهَا باب: جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے بھول جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهَذَا لَفْظُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْقِتْبَانِيَّ ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبْحٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ عَنِ الصُّبْحِ ، حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَنَحَّوْا عَنْ هَذَا الْمَكَانِ ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ تَوَضَّئُوا وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ " .
´عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، آپ فجر میں سوئے رہ گئے ، یہاں تک کہ سورج نکل آیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا : ” اس جگہ سے کوچ کر چلو “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے اذان دی پھر لوگوں نے وضو کیا اور فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فجر پڑھائی ۔