حدیث نمبر: 4429
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ ، زَادَ : وَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : رُبِطَ إِلَى شَجَرَةٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ وُقِفَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابوہریرہ سے ایسی ہی حدیث مروی ہے` اس میں اتنا اضافہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور کچھ کا کہنا ہے کہ اسے ( میدان میں ) کھڑا کر دیا گیا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الحدود / حدیث: 4429
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (4428)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13599) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔`
اس سند سے بھی ابوہریرہ سے ایسی ہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور کچھ کا کہنا ہے کہ اسے (میدان میں) کھڑا کر دیا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4429]
فوائد ومسائل:
اگلی حدیث (4431) میں ہےکہ وہ ازخود کھڑا ہوگیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4429 سے ماخوذ ہے۔