سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب رَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجًا ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ ، حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعَ مِرَارٍ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَبِمَنْ ؟ قَالَ : بِفُلَانَةٍ ، فَقَالَ : هَلْ ضَاجَعْتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَلْ بَاشَرْتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَلْ جَامَعْتَهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ ، فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ وَقَدْ عَجَزَ أَصْحَابُهُ ، فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
´نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا ، ان سے میرے والد نے کہا : جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو ، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں ، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا ، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے زنا کر لیا ہے ، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے ، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : فلاں عورت سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے ؟ “ ماعز نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم اس سے چمٹے تھے ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم ( سنگسار ) کئے جانے کا حکم دیا ، انہیں حرہ ۱؎ میں لے جایا گیا ، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے ، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے ، ان کے ساتھی تھک چکے تھے ، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور ان سے اسے بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۲؎ ، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا، ان سے میرے والد نے کہا: جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4419]
1) حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔
شیطان کے اغوا سے زنا کر بیٹھے تھے، انھوں نے رسول اللہﷺکے سامنے اقرار کیا اور دنیا کی سزا قبول کی۔
اللہ ان سے راضی ہو۔
کسی بھی صاحب ایمان کو کسی طرح روا نہیں کہ اب ان کے بارے میں کوئی نامناسب بات کہے یا دل میں رکھے۔
2) تم نے اس کوچھوڑ کیوں نہ دیا۔
اس جملے کا صحیح مفہوم درج ذیل حدیث میں آرہا ہے، یعنی اس میں اس کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لانے کی بات تھی کہ آپ اسے یہ سزا بھگت لینے کی تلقین فرماتے کہ یہ سزا عذاب کے مقابلے میں بہت ہلکی اور آسان ہے۔