سنن ابي داود
كتاب الحدود— کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان
باب فِي السَّارِقِ تُعَلَّقُ يَدُهُ فِي عُنُقِهِ باب: چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4411
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي الْعُنُقِ لِلسَّارِقِ أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ : " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ` میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے ؟ تو آپ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4411]
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4411]
فوائد ومسائل:
بعض فقہاء عبرت کے لئے اس عمل کے قائل ہیں، جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
(نيل الأوطار:153/4)
بعض فقہاء عبرت کے لئے اس عمل کے قائل ہیں، جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
(نيل الأوطار:153/4)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4411 سے ماخوذ ہے۔